میرا نام سدرہ قیوم ہے اور میرا تعلق سکھیکی منڈی، ضلع حافظ آباد سے ہے۔ میں نے ایم اے اردو اور بی ایڈ کی تعلیم حاصل کی اور آج ایک پرائیویٹ کالج میں اردو پڑھانے کی ذمہ داری نبھا رہی ہوں۔ میرے نزدیک تدریس صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ نسلوں کی فکر سنوارنے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے تقریر اور تحریر، دونوں کا ملکہ عطا فرمایا ہے۔ متعدد تقریری مقابلوں میں کامیابی میرے لیے حوصلے کا باعث بنی، اور یہی اعتماد میرے قلم میں بھی جھلکتا ہے۔ میں کالم نگاری، شاعری، بچوں کی کہانیوں اور ادب کی دیگر اصناف میں لکھتی ہوں۔ خطاطی اور پینٹنگ میرے وہ رنگ ہیں جو لفظوں کو تصویر اور تصویر کو پیغام بنا دیتے ہیں۔
لیکن میری اصل پہچان میرے گھر میں قائم قرآن اکیڈمی ہے، جہاں بچوں کو بالکل مفت دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ علم کا سب سے خوبصورت چراغ وہ ہے جو بغیر کسی معاوضے کے جلایا جائے۔
ادب اور اصلاحِ معاشرہ کے سفر میں مجھے کئی تنظیموں اور رسائل کا ساتھ ملا، جن میں شامل ہیں:
تحریک اصلاحِ معاشرہ پاکستان، بزمِ شمسی، پاکستان لٹریری فورم، بزمِ اوج (جہانیاں)
انٹرنیشنل رائٹرز فورم اور وائس آف یوتھ آرگنائزیشن (اسلام آباد)
گلبل میگزین، پھول (لاہور)، کرن کرن روشنی، مہک، جگنو، بچوں کی دنیا، بچوں کا باغ اور طالبِ نظر اخبار (کراچی)
ان اداروں کی جانب سے ایوارڈز، میڈلز اور اسناد سے نوازا گیا، جو میرے لیے اعزاز بھی ہیں اور ذمہ داری بھی۔ میرا قلم اور میری کوشش اسی عزم کے ساتھ جاری ہیں کہ علم، ادب اور خدمتِ دین کا یہ سفر کبھی نہ رکے۔
مزید پڑھیں






