ناسا کے 22 سال پرانا ٹیلی اسکوپ کا اختتام، خلائی ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

امریکی خلائی ادارے ناسا کی مشہور خلائی دوربین ’نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری‘ کا تقریباً 22 سالہ مشن اختتام پذیر ہوگیا۔
بدھ کی صبح یہ خلائی جہاز زمین کی فضا میں داخل ہوگیا، جہاں شدید درجہ حرارت کے باعث اس کا بیشتر حصہ جل کر تباہ ہونے کا امکان ہے،تاہم بعض ٹکڑوں کے زمین تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔
امریکی خلائی فورس کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 3 ہزار 200 پاؤنڈ وزنی خلائی دوربین امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 39 منٹ پر انڈونیشیا کے اوپر زمین کی فضا میں داخل ہوئی،تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دوربین کا کوئی ملبہ زمین پر گرا یا نہیں۔
ناسا نے اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ اس خلائی جہاز کے زمین پر گرنے سے کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کا امکان تقریباً 2 ہزار 100 میں سے ایک ہے۔
زمین کی فضا میں داخل ہوتے وقت سیٹلائٹ کو شدید رگڑ اور حرارت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث اس کا بیشتر حصہ فضا ہی میں جل کر ختم ہوگیا۔ تاہم امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ اس کے کچھ چھوٹے ٹکڑے زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔ ناسا نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں زمین پر کسی قسم کے نقصان یا جانی چوٹ کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ سیٹلائٹ کے فضا میں داخل ہونے کا مقام شمالی سماٹرا کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر میڈان سے کتنا قریب تھا، جہاں تقریباً 25 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ پورے صوبے کی آبادی لگ بھگ ایک کروڑ 60 لاکھ ہے۔
برطانیہ کی صنعتی کمپنی ایکیو کمپونینٹس سے وابستہ ایرو اسپیس انجینئر ڈین سلیڈن نے بھی فضا میں دوبارہ داخلے سے پہلے کہا تھا کہ سیٹلائٹ کے صرف چند چھوٹے اور جلے ہوئے ٹکڑوں کے زمین تک پہنچنے کی توقع ہے، جن سے دوربین کی اصل شکل پہچاننا بھی ممکن نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حجم کے سیٹلائٹس کا زمین کی فضا میں داخل ہونا معمول کا عمل ہے اور تقریباً 70 سالہ خلائی تاریخ میں اب تک کسی شخص کی موت خلا سے گرنے والے ملبے کے باعث نہیں ہوئی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اسی لیے سیٹلائٹس کو اس انداز میں تیار کرنا اہم ہے کہ ان کا زمین پر واپسی کا عمل زیادہ محفوظ ہو-
تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی سوئفٹ آبزرویٹری کو 20 نومبر 2004 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے ڈیلٹا ٹو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا اس کا بنیادی مقصد کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں، جنہیں گاما رے برسٹس کہا جاتا ہے، کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنا تھا،یہ دوربین اپنی تیز رفتار حرکت اور فوری طور پر سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کے باعث بلیک ہولز سے خارج ہونے والی توانائی، کائناتی دھماکوں اور دیگر غیر معمولی فلکیاتی واقعات کا مشاہدہ کرتی رہی سائنس دانوں نے اسے شہابی پتھروں اور دمدار ستاروں کے مطالعے کے لیے بھی استعمال کیا۔
ناسا کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سورج کی سرگرمیوں میں اضافے نے دوربین کے مدار سے نیچے آنے کا عمل تیز کردیا 2024 میں سورج اپنے 11 سالہ شمسی چکر کی بلند ترین سرگرمی کے مرحلے میں پہنچا، جس کے دوران شمسی شعلوں اور کورونا ماس ایجیکشنز کے باعث زمین کی فضا پھیل گئی ،اس سے دوربین پر فضائی مزاحمت بڑھ گئی اور وہ بتدریج زمین کے قریب آتی چلی گئی۔
ناسا نے دوربین کو بچانے کے لیے رواں سال جولائی میں ایک خصوصی ریسکیو مشن بھی روانہ کیا تھا، اس مقصد کے لیے تیار کردہ ’لنک‘ نامی خلائی جہاز کوسوئفٹ کے ساتھ منسلک ہوکر اسے دوبارہ مستحکم مدار میں پہنچانا تھا، تاہم یہ کوشش ناکام ہوگئی لنک خلائی جہاز سوئفٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی خلا میں بے قابو ہوکر گھومنے لگا۔
بعدازاں سوئفٹ کا مدار زمین سے صرف 171 میل کی بلندی تک محدود ہوگیا اور اس نے سائنسی ڈیٹا جمع کرنا بند کردیا، پین اسٹیٹ یونیور سٹی کے مشن آپریشنز سینٹر نے 20 اکتوبر کو اسے بند کرنے کا آخری حکم جاری کیادوسری جانب ناسا نے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدتِ کار بڑھانے کے لیے نجی کمپنیوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں، ادارے کے اندازے کے مطابق ہبل کے 2032 تک مدار سے باہر ہونے کا امکا ن 10 فیصد جبکہ 2033 تک یہ امکان 50 فیصد ہے۔
مزید پڑھیں





