Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سیاسی اختلافات اور دہشتگردی کے خلاف قومی مفاد کو الگ الگ رکھا جائے,شازیہ مری

shazia marri

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کو سیاسی عینک سے نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے-


شازیہ مری نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے، ملک کے کسی بھی حصے میں بدامنی کے اثرات کراچی تک پہنچتے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ دہشتگردی پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات پورے ملک بالخصوص کراچی تک پھیل سکتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ہر فورم پر واضح کرچکے ہیں کہ دہشتگردی پیپلز پارٹی کے لیے ریڈ لائن ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو متحد ہونا ہوگا۔


ترجمان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کے لیے تحریری معاہدہ کیا جائے ان کا مؤقف ہے کہ آئینی اقدامات سے پہلے سیاسی مذاکرات کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے جائیں اور پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرکے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔


شازیہ مری نے کہا کہ بلاول بھٹو نے واضح کیا ہے کہ سیاسی اختلافات اور دہشتگردی کے خلاف قومی مفاد کو الگ الگ رکھا جائے دہشتگر دی پاکستان کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے جبکہ پڑوسی ممالک سے دہشتگرد گروہوں کو ملنے والی معاونت بھی پاکستان کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔


انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے باوجود سیاسی احتجاج جاری رہنا تشویشناک ہے,تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کامیاب بنانے چاہئیں تاکہ ملک کو سیاسی عدم استحکام سے بچایا جاسکے, سیاسی استحکام ہی دہشتگردی کا مؤثر مقابلہ کرنے اور عوامی ترقی کے منصوبوں کا تسلسل یقینی بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔


شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں بے شمار قربانیاں دے چکی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ پارٹی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام آئینی راستے اختیار کرنے کے عزم پر قائم ہے,ملک میں ایمرجنسی یا گورنر راج جیسی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے سیاسی حل نکالنا تمام جمہوری قوتوں کی ذمہ داری ہے, پاکستان کی سلامتی، جمہوریت اور تمام صوبوں کے مفاد میں سیاسی مذاکرات کی کامیابی ناگزیر ہے۔