نیتن یاہو نے امارات میں صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی،خبرایجنسی

خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور ابوظہبی میں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔
رائٹرز نے یہ خبر ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کی جس پر نیتن یاہو کے دفتر اور متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
یہ مبینہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے رواں ماہ رپورٹ کیا تھا کہ شیخ محمد بن زاید النہیان نے 7 اکتوبر 2023 سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اخبار کے مطابق یہ اطلاع اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں یا فوج تک نہیں پہنچائی گئی۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی اس خبر کی تصدیق اپنی ایک رپورٹ میں کی جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم ان خبروں کی تردید کر چکے ہیں اور ہارٹز اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کو سخت انتخابی مہم کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے سے قبل سکیورٹی کی ناکامیوں کی ذمہ داری نیتن یاہو پر عائد کی ہے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ہارٹز کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے تاہم اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ 2020 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست رابطے برقرار ہیں۔
رائٹرز کو اس سے قبل ایک اماراتی سورس نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات دیگر ممالک کے ساتھ سکیورٹی امور پر ’’متعلقہ اداروں‘‘ کے ذریعے بات چیت کرتا ہے تاہم یہ معاملات ’’قومی رہنماؤں کی سطح‘‘ پر زیر بحث نہیں آتے۔
رواں سال کے آغاز میں بھی اسرائیلی وزیراعظم اور امارتی صدر کے درمیان ملاقات کی خبریں سامنے آئی تھیں تاہم متحدہ عرب امارات نے اس ملاقات کی تردید کی تھی۔ اس سے قبل مئی میں اسرائیلی وزیرا عظم کے دفتر نے کہا تھا کہ نیتن یاہو نے خفیہ طور پر خلیجی ملک کا دورہ کیا اور صدر سے ملاقات کی تھی۔
یو اے ای وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اسرائیلی وزیراعظم کے کسی خفیہ یا غیر اعلانیہ دورے اور اسرائیلی فوجی وفد کے استقبال سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اس ملاقات سے واقف ایک سورس نے اس وقت بتایا تھا کہ نیتن یاہو اور شیخ محمد نے 26 مارچ کو ابوظہبی کے قریب عمان کی سرحد پر واقع نخلستانی شہر العین میں ملاقات کی تھی۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا تھا کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی جنگ کے دوران کم از کم 2 مرتبہ امارات کا دورہ کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس سارے معاملے کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔
ایران جنگ کے دوران حملوں کی زد میں آنے کے بعد متحدہ عرب امارات نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے ستمبر 2020 میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کیے تھے یہ 1994 کے بعد کسی عر ب ملک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا ایک اہم معاہدہ تھا۔ بعد ازاں بحرین اور دیگر ممالک نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے-
دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم بعض ملاقاتوں کی تفصیلات باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئیں، نیتن یاہو کا حالیہ دورہ اسی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان سکیورٹی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔
مزید پڑھیں





