لیہ کی مٹی میں دفن ایک تاریخ، جسے ہم نے وقت کے ساتھ کھو دیا،تحریر:انجینئر شیراز حسین رونگھا
نقطہ نظر
کرنل راس کی قبر کا نوحہ
لیہ کی مٹی صرف مٹی نہیں، یہ صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس سرزمین نے ریاستوں کے عروج و زوال دیکھے، حکمرانوں کی آمد و رفت دیکھی، دریائے سندھ کے کنارے آبادیاں بنتی اور اجڑتی دیکھیں اور پھر برصغیر میں برطانوی اقتدار کا وہ دور بھی دیکھا جب انتظامی نقشے نئے سرے سے بنائے جا رہے تھے۔ مگر افسوس کہ جس شہر نے کبھی ایک بڑے انتظامی خطے کے مرکز کی حیثیت حاصل کی، آج اسی شہر میں موجود تاریخ کے بہت سے نشانات ہماری بے حسی کی نذر ہو چکے ہیں۔
انہی گمشدہ نشانات میں ایک نام کرنل راس کی قبر کا بھی ہے۔
یہ صرف ایک قبر نہیں تھی، بلکہ لیہ کے ایک اہم تاریخی دور کی خاموش گواہ تھی۔
1849ء میں پنجاب پر برطانوی اقتدار مکمل ہونے کے بعد انگریز حکومت نے اپنے انتظامی مقاصد کے لیے پنجاب میں مختلف ڈویژن اور اضلاع قائم کیے۔ لیہ بھی ایک اہم انتظامی مرکز کے طور پر سامنے آیا۔ تاریخی روایات کے مطابق 1850ء میں لیہ کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر کا درجہ دیا گیا اور اس وسیع ڈویژن میں موجودہ میانوالی، بنوں، ٹانک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر، خوشاب، لیہ، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے وسیع علاقے شامل تھے۔
سوچیے، آج کا نسبتاً پُرسکون لیہ اس زمانے میں ایک ایسے وسیع انتظامی خطے کا مرکز تھا جس کا پھیلاؤ بہت دور تک تھا۔
اسی دور میں کرنل راس نے لیہ ڈویژن کے کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ 1850ء سے 1857ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 18 اگست 1857ء کو ان کا انتقال ہوا اور انہیں لیہ ہی میں سپرد خاک کیا گیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر 1857ء کی ہلچل سے گزر رہا تھا۔ ہندوستان کی تاریخ ایک بڑے موڑ پر کھڑی تھی۔ اقتدار، بغاوت، وفاداری، مزاحمت اور تبدیلی کے واقعات نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ ایسے دور میں لیہ بھی محض ایک چھوٹا سا شہر نہیں بلکہ برطانوی انتظامی نظام کا ایک اہم مرکز تھا۔
کرنل راس کی قبر اس دور کی ایک مادی یادگار تھی۔
وقت گزرتا رہا۔
حکومتیں بدلیں، نظام بدلے، نقشے بدلے، سڑکیں بنیں، شہر پھیلا اور نئی نسلیں آتی گئیں۔ مگر تاریخ کے کچھ خاموش ورق بھی ہوتے ہیں جنہیں محفوظ رکھنا ریاستوں اور معاشروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے کرنل راس کی قبر بھی وقت کی بے رحمی اور ہماری اجتماعی غفلت کا شکار ہوگئی۔
بتایا جاتا ہے کہ چند سال قبل تک اس قبر کا نشان موجود تھا۔ لوگ اس جگہ کو جانتے تھے۔ ایک تاریخی حوالہ موجود تھا۔ مگر آج وہ نشان بھی مٹ چکا ہے۔ قبر کہاں تھی؟ اس کی شناخت کیا تھی؟ اس جگہ کی تاریخی حیثیت کیا تھی؟ نئی نسل کو شاید ان سوالات کے جواب معلوم ہی نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔
تاریخ صرف بادشاہوں کے محلات، قلعوں اور جنگوں کے ناموں کا مجموعہ نہیں۔ تاریخ ان قبروں، عمارتوں، راستوں، پرانی دستاویزات اور ان مقامات میں بھی زندہ رہتی ہے جنہیں ہم بظاہر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
کرنل راس سے کسی کو عقیدت رکھنے کی ضرورت نہیں۔ وہ برطانوی دور کے ایک افسر تھے، ایک ایسے نظام کے نمائندے تھے جس نے اس خطے پر نوآبادیاتی اقتدار قائم کیا۔ لیکن تاریخ کو محفوظ کرنا اور تاریخ کے کرداروں سے عقیدت رکھنا دو الگ چیزیں ہیں۔
ہمیں کرنل راس کی قبر اس لیے محفوظ کرنی چاہیے تھی کہ وہ لیہ کی تاریخ کا ایک باب تھی۔
دنیا کے بہت سے ممالک میں ایسے تاریخی مقامات کو محفوظ رکھا جاتا ہے، چاہے وہ مقامات ان کے پسندیدہ کرداروں سے متعلق ہوں یا ان کے تلخ ماضی کی یاد دلاتے ہوں۔ کیونکہ قومیں تاریخ کو مٹاتی نہیں، اسے محفوظ کرکے آنے والی نسلوں کو بتاتی ہیں کہ ماضی میں کیا ہوا تھا۔
اگر لیہ کبھی ایک بڑے ڈویژن کا مرکز رہا، اگر یہاں سے ایک وسیع خطے کا انتظام چلایا جاتا رہا، اگر یہاں ایسے افسر تعینات رہے جنہوں نے اس دور کی انتظامی تاریخ میں کردار ادا کیا، تو ان کے آثار بھی ہماری مقامی تاریخ کا حصہ ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہم اپنے تاریخی ورثے کو اس وقت یاد کرتے ہیں جب اس کا آخری نشان بھی ختم ہو چکا ہوتا ہے۔
کرنل راس کی قبر کا معاملہ اسی اجتماعی رویے کی ایک مثال ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ لیہ کی تاریخ پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ مقامی تاریخ کے ماہرین، صحافی، اساتذہ، محکمہ آثار قدیمہ، ضلعی انتظامیہ اور شہری نمائندے مل کر پرانے ریکارڈ تلاش کریں۔ برطانوی دور کے نقشے، گزٹ، سرکاری ریکارڈ، پرانی تحریریں اور مقامی روایات سامنے لائی جائیں۔ اگر کرنل راس کی قبر کی جگہ کا سراغ مل سکتا ہے تو اسے تلاش کیا جائے۔
اور اگر مقام کی درست شناخت ممکن ہو جائے تو وہاں ایک سادہ سا تاریخی کتبہ نصب کیا جائے۔
کتبے پر صرف اتنا لکھ دینا بھی کافی ہوگا کہ یہاں لیہ ڈویژن کے پہلے کمشنر کرنل راس مدفون تھے، اور ان کا تعلق اس دور سے تھا جب لیہ ایک وسیع انتظامی ڈویژن کا مرکز تھا۔
یہ تختی صرف کرنل راس کے لیے نہیں ہوگی۔
یہ لیہ کے لیے ہوگی۔
یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ہوگی۔
یہ اس بات کا اعلان ہوگی کہ ہم اپنے شہر کی تاریخ سے بے خبر نہیں۔
لیہ آج ایک جدید ضلع ہے۔ یہاں نئی سڑکیں بن رہی ہیں، ہسپتال ترقی کر رہے ہیں، تعلیمی ادارے قائم ہو رہے ہیں اور شہر مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مگر ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ماضی کو پیچھے چھوڑ دیں۔
جس قوم کو اپنے ماضی کا شعور ہو، وہ اپنے مستقبل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے۔
آج اگر کرنل راس کی قبر کا نشان مٹ گیا ہے تو یہ صرف ایک قبر کا مٹنا نہیں، یہ ہماری تاریخی یادداشت کے ایک حصے کا مٹنا ہے۔
وقت شاید قبر کا نشان مٹا سکتا ہے، مگر تاریخ کا سوال نہیں مٹا سکتا:
لیہ کی اس سرزمین پر کون سویا تھا؟
وہ یہاں کیوں دفن ہوا؟
اور ہم نے اس کی نشانی کیوں کھو دی؟
کرنل راس کی قبر شاید آج خاموش ہے، مگر اس خاموشی میں لیہ کی تاریخ بولتی ہے۔
ضرورت صرف اتنی ہے کہ کوئی اسے سننے والا ہو۔
اور شاید یہی اس قبر کا اصل نوحہ ہے کہ
جس شہر نے کبھی ایک وسیع خطے کی تاریخ لکھی، وہ آج اپنی ہی تاریخ کے ایک اہم باب کا نشان تلاش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں





