ہم اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟ تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
دنیا کے نقشے پر نگاہ دوڑائیے۔ کہیں بلند و بالا عمارتیں ہیں، کہیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ شہر، کہیں دولت کے انبار ہیں اور کہیں غربت، بھوک اور محرومی سے لڑتے ہوئے انسان۔ کوئی اردو بولتا ہے، کوئی انگریزی، کوئی عربی اور کوئی دنیا کی کسی دوسری زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ کسی کی رنگت سیاہ ہے، کسی کی سفید اور کسی کی گندمی۔ کوئی ترقی یافتہ ملک میں رہتا ہے اور کوئی بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ مگر ان تمام اختلافات کے باوجود ایک حقیقت سب کو یکساں طور پر اپنی لپیٹ میں لیتی ہے: موت۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس زبان میں بات کرتا ہے، کس ملک کا شہری ہے، کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے، کتنی ڈگریاں حاصل کر چکا ہے یا اس کے بینک اکاؤنٹ میں کتنی دولت موجود ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب انسان اس دنیا سے رخصت ہوگا تو اپنے ساتھ کیا لے کر جائے گا؟ اس کے اعمال کیسے ہوں گے؟ اس نے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کیں یا مشکلات؟ اس نے کمزوروں کا سہارا بننے کی کوشش کی یا ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی زندگی کا حساب کیا ہوگا؟
قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ سورۃ آلِ عمران، آیت 185 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور قیامت کے دن ہی اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ آیت انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی کامیابیاں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں۔ عہدے، اختیارات، شہرت، دولت اور دنیاوی امتیازات سب یہیں رہ جاتے ہیں۔
لیکن اس حقیقت کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم، محنت، ترقی یا دنیاوی کامیابی بے معنی ہیں۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، محنت اسے آگے بڑھاتی ہے اور علم معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان صلاحیتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص اگر اپنے علم سے لوگوں کو نقصان پہنچائے تو محض اس کی ڈگری اسے اخلاقی عظمت نہیں دے سکتی۔ اس کے برعکس، علم اور وسائل رکھنے والا شخص اگر انہیں انسانیت کی خدمت، انصاف اور بھلائی کے لیے استعمال کرے تو اس کی صلاحیتیں معاشرے کے لیے رحمت بن سکتی ہیں۔
اسلام انسانوں کے درمیان رنگ، نسل اور قومیت کی بنیاد پر برتری کے تصور کو بھی رد کرتا ہے۔ سورۃ الحجرات، آیت 13 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسانوں کو قوموں اور قبیلوں میں اس لیے بنایا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، اور اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ گویا انسان کی حقیقی قدر اس کی ظاہری شناخت سے نہیں بلکہ اس کے تقویٰ اور کردار سے وابستہ ہے۔
یہی وہ اصول ہے جسے آج کے عالمی معاشرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی انسان کے پاس بے پناہ دولت ہے لیکن وہ دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے، تو دولت اس کے اخلاقی رویے کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اگر کوئی شخص دنیا کے سامنے بہت مقبول ہے لیکن تنہائی میں ظلم، دھوکے اور ناانصافی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو محض شہرت اس کے اعمال کی حقیقت تبدیل نہیں کر دیتی۔
رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت کردہ حدیث میں واضح فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملتا ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 1؛ صحیح مسلم، حدیث 1907)۔ اس تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے عمل کے ساتھ اس کی نیت اور مقصد بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم اچھی نیت کے نام پر دوسروں کے حقوق پامال کرنا درست نہیں؛ نیکی کا راستہ دیانت، انصاف اور ذمہ داری سے ہو کر گزرتا ہے۔
قرآنِ مجید سورۃ الزلزال، آیات 7 اور 8 میں بتاتا ہے کہ جو شخص ذرّہ برابر نیکی کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا، اور جو ذرّہ برابر برائی کرے گا، وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ یہ تصور انسان کو اپنی روزمرہ زندگی کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا، کسی مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا، کسی کا حق ادا کرنا، سچ بولنا اور دوسروں کی عزت محفوظ رکھنا بظاہر چھوٹے اعمال دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن اسلامی تعلیمات میں نیکی اور جواب دہی کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا نیک اعمال کرنے کا فائدہ صرف آخرت میں ملے گا؟ قرآنِ مجید سورۃ النحل، آیت 97 میں ایمان کے ساتھ نیک عمل کرنے والے مرد و عورت کو پاکیزہ زندگی عطا کیے جانے کا ذکر کرتا ہے۔ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ایمان، اخلاق اور صالح کردار انسان کی دنیاوی زندگی کو بھی بہتر بنانے کا ذریعہ ہیں۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیک انسان کو دنیا میں کبھی دکھ، بیماری، غربت یا آزمائش کا سامنا نہیں ہوگا۔ دنیا آزمائش کی جگہ ہے اور ہر انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔
اسی طرح گناہوں کی بخشش اللہ تعالیٰ کی رحمت، توبہ، ایمان اور اس کی حکمت سے وابستہ ہے۔ انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، مگر مغفرت کی امید کے ساتھ اپنے اعمال درست کرنا، گناہوں سے بچنا اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
آخرکار انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک وہ جس میں وہ اپنی پوری زندگی صرف ذاتی مفاد، غرور، مقابلے اور دوسروں کو پیچھے چھوڑنے میں گزار دیتا ہے؛ دوسرا وہ جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انسان بننے، مخلوقِ خدا کے کام آنے اور اپنے خالق کی رضا حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
موت دونوں راستوں پر چلنے والوں کو آنی ہے۔ فرق اس بات میں ہے کہ انسان نے زندگی کس طرح گزاری اور اپنے اعمال سے کیا اثر چھوڑا۔
اس لیے اصل کامیابی صرف طویل زندگی گزارنا نہیں، بلکہ زندگی کو بامقصد، باکردار اور نیکی سے بھرپور بنانا ہے۔ آخر میں سوال یہی ہوگا کہ ہم نے دنیا سے کیا حاصل کیا، اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم نے دنیا کو کیا دیا اور اپنے اعمال کے ساتھ آخرت کے لیے کیا تیاری کی۔
مزید پڑھیں





