ماما! آپ اُن بچوں کے لیے کیوں نہیں لکھتیں؟ تحریر: ام عــبــد الــقـہــار
نقطہ نظر
( ایک معصوم بچے کی ضد، ایک ماں کی بے بسی اور ہمارے معاشرے کے ضمیر پر دستک)
’’ماما! آپ اتنا لکھتی ہیں، لوگوں کو سمجھاتی ہیں، اچھی اچھی باتیں بتاتی ہیں، تو آپ اُن بچوں کے بارے میں کیوں نہیں لکھتیں جن کا دوسرے بچے مذاق اڑاتے ہیں؟ آپ کچھ ایسا لکھیں کہ سب لوگ پڑھیں اور اپنے بچوں کو سمجھائیں۔‘‘
یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں تھی۔ میرا بیٹا کئی مرتبہ مجھ سے یہی مطالبہ کرچکا تھا۔ کبھی وہ بڑے اصرار سے بات کرتا، کبھی کسی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اس کے لہجے میں دکھ اتر آتا اور کبھی یوں محسوس ہوتا جیسے وہ مجھ سے محض ایک تحریر نہیں، کسی مظلوم بچے کے لیے انصاف مانگ رہا ہو۔
اسے شاید یہ یقین تھا کہ اس کی ماں قلم اٹھائے گی، کچھ لکھے گی اور دنیا بدل جائے گی۔
میں اس کی معصوم خواہش سنتی اور سوچتی کہ کاش! معاشرے بدلنا اتنا آسان ہوتا۔ کاش! چند جملے انسانی رویوں سے بے رحمی ختم کرسکتے۔ کاش! ایک تحریر پڑھ کر ہر ماں اپنے بچے کی تربیت پر غور کرنے لگتی اور ہر باپ اپنی زبان کا محاسبہ شروع کردیتا۔
لیکن پھر ایک خیال میرے دل میں ابھرا کہ اگر ایک بچے کے دل میں کسی دوسرے بچے کی تکلیف کے لیے اتنی جگہ موجود ہے تو کیا ہم بڑے اپنے دلوں میں اتنی سی جگہ بھی پیدا نہیں کرسکتے؟
میرا بیٹا جس مدرسے میں تعلیم حاصل کرتا ہے، وہاں اس نے بعض ایسے مناظر دیکھے جنہوں نے اسے بے چین کردیا۔ کسی بچے کی رنگت گہری ہے تو اسے اس کے نام کے بجائے رنگت سے منسوب توہین آمیز القاب سے پکارا جاتا ہے۔ کوئی قد میں چھوٹا ہے تو اس کے قد کو مذاق بنا دیا جاتا ہے۔ کسی کی جسمانی ساخت مختلف ہے تو اس پر ہنسا جاتا ہے۔ کسی بچے کا کھانا دوسروں کے کھانے جیسا نہیں تو اس کے کھانے کو کمتر سمجھ کر اس کی تضحیک کی جاتی ہے۔
بظاہر یہ چند لمحوں کی ہنسی ہوتی ہے، لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کہ جس بچے کو ہنسنے کا موضوع بنایا جارہا ہے، اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟
وہ بچہ جو صبح اپنی ماں کی دعاؤں کے سائے میں گھر سے نکلتا ہے، علم حاصل کرنے جاتا ہے، دوست بنانے جاتا ہے، اپنی زندگی کے خوب صورت لمحات گزارنے جاتا ہے، اسے کیا معلوم کہ آج اس کی رنگت، اس کا قد، اس کی شکل یا اس کا کھانا اس کی تذلیل کا ذریعہ بن جائے گا!
ممکن ہے وہ سب کے سامنے مسکرا دے۔ ممکن ہے اپنی آنکھوں میں آنے والے آنسو چھپا لے۔ ممکن ہے گھر پہنچ کر معمول کے مطابق کھانا کھائے اور خاموشی سے سو جائے، مگر کیا اس کی خاموشی اس بات کی ضمانت ہے کہ اسے تکلیف نہیں پہنچی؟
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ بچوں کے دل بھی ٹوٹتے ہیں، ان کی عزتِ نفس بھی مجروح ہوتی ہے اور ان کے بچپن پر بھی ایسے زخم لگ سکتے ہیں جو برسوں بعد تک ان کی شخصیت پر اثرانداز رہیں۔
ایک بچے کی رنگت اس کا انتخاب نہیں۔ اس کا قد، چہرے کے نقوش اور جسمانی ساخت اس کے اختیار میں نہیں۔ پھر آخر کس حق سے ہم اس کے وجود کو مذاق کا موضوع بناتے ہیں؟
اور کھانا؟ کبھی ہم نے سوچا کہ کسی بچے کے لنچ باکس میں معمولی روٹی یا سادہ سالن کیوں ہے؟ ہوسکتا ہے اس کی ماں نے اپنی استطاعت کے مطابق بڑے پیار سے وہ کھانا تیار کیا ہو۔ ہوسکتا ہے گھر کے حالات ایسے ہوں کہ روزانہ نت نئے پکوان ممکن نہ ہوں۔ ہوسکتا ہے وہی سادہ سا کھانا اس بچے کے لیے گھر کی محبت اور اپنائیت کی علامت ہو۔
لیکن ایک دوسرا بچہ چند طنزیہ جملوں سے نہ صرف اس کھانے کی توہین کرتا ہے بلکہ انجانے میں اس ماں کی محبت اور اس خاندان کی معاشی مجبوری کو بھی نشانہ بنا دیتا ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: بچوں میں یہ بے رحمی آتی کہاں سے ہے؟
کیا بچے پیدائشی طور پر دوسروں کی رنگت سے نفرت کرتے ہیں؟ کیا انہیں دنیا میں آتے ہی معلوم ہوتا ہے کہ امیر اور غریب میں فرق کرنا ہے؟ کیا قدرتی طور پر ان کے ذہنوں میں یہ بات موجود ہوتی ہے کہ خوب صورتی کا تعلق مخصوص رنگت، لباس یا جسمانی ساخت سے ہے؟
نہیں! یہ رویے بڑی حد تک انہیں اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھنے کو ملتے ہیں۔
ذرا اپنے گھروں کا جائزہ لیجیے۔
کسی رشتے دار کے آنے پر تبصرہ ہوتا ہے: ’’اس کا رنگ تو بہت کالا ہے۔‘‘
کسی بچے کو دیکھ کر کہا جاتا ہے: ’’اس کا قد تو بڑھتا ہی نہیں۔‘‘
کسی کی مالی حالت پر ہنسا جاتا ہے: ’’ان لوگوں کی حیثیت ہی کیا ہے!‘‘
کسی کے لباس پر فقرہ کسا جاتا ہے، کسی کے لہجے کی نقل اتاری جاتی ہے اور کسی کی ظاہری کمزوری کو محفل کی تفریح بنا دیا جاتا ہے۔
بچے خاموشی سے سب کچھ سن رہے ہوتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وہ کھیل میں مصروف ہیں، انہیں ہماری گفتگو سے کیا سروکار؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچے صرف ہماری نصیحتیں نہیں سنتے، ہمارے لہجے، تاثرات، رویے اور دوسروں کے بارے میں قائم کردہ تصورات بھی اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔
پھر یہی الفاظ گھر کی چار دیواری سے نکل کر مدرسے، اسکول اور کھیل کے میدان تک پہنچ جاتے ہیں۔
جو جملہ کسی باپ نے محفل میں ہنستے ہوئے کہا تھا، وہی جملہ اس کا بچہ اپنے کسی کمزور ساتھی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جس تمسخر پر ماں نے گھر میں قہقہہ لگایا تھا، وہی مذاق اس کی بیٹی کسی ہم جماعت کے ساتھ دہراتی ہے۔
یوں ہم اپنے گھروں میں جو رویے پروان چڑھاتے ہیں، ان کی قیمت بعض اوقات دوسرے گھروں کے معصوم بچے ادا کرتے ہیں۔
یہ محض تربیت کی کمی نہیں، ایک اجتماعی اخلاقی مسئلہ ہے۔
ہم اپنے بچوں کو اچھے نمبر دلوانا چاہتے ہیں، انہیں ذہین، کامیاب، باصلاحیت اور نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے بہترین تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں، ان کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے یہ بھی دریافت کیا کہ ہمارا بچہ اپنے سے کمزور ساتھی کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے؟
کیا وہ کسی ایسے بچے کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتا ہے جس کے کپڑے معمولی ہیں؟ کیا وہ اس بچے کو بھی اپنے کھیل میں شامل کرتا ہے جو پڑھائی میں کمزور ہے؟ کیا وہ اپنے کھانے میں سے کسی دوسرے کو محبت سے شریک کرتا ہے یا اس کے کھانے پر ہنستا ہے؟
کیا ہم نے کبھی اپنے بچے سے پوچھا کہ آج تمہاری وجہ سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی یا کسی کی آنکھوں میں آنسو؟
ہم بچوں کے بستے تو روزانہ دیکھتے ہیں، مگر ان کے رویوں کا جائزہ کتنی مرتبہ لیتے ہیں؟
افسوس! بعض اوقات ہمیں اپنے بچے کی بدتمیزی بھی شرارت محسوس ہوتی ہے۔ وہ کسی کو تکلیف پہنچاتا ہے تو ہم ہنس کر کہتے ہیں: ’’ابھی بچہ ہے، بڑا ہوکر سمجھ جائے گا۔‘‘
لیکن ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جس کی تذلیل کی گئی، وہ بھی تو بچہ ہے!
اس کا بچپن بھی اتنا ہی قیمتی ہے۔ اس کی خوشیاں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ اس کی عزتِ نفس بھی اتنی ہی محترم ہے جتنی ہمارے اپنے بچے کی۔
ہمارا بچہ محض شرارت کررہا ہو، لیکن ممکن ہے دوسرے بچے کے لیے وہ واقعہ زندگی کی ایک تکلیف دہ یاد بن جائے۔
بعض بچے مسلسل تمسخر کا نشانہ بننے کے بعد لوگوں کے سامنے بولنے سے گھبرانے لگتے ہیں۔ کچھ اپنی شکل و صورت سے غیر ضروری شرمندگی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ کچھ تعلیم سے بے دل ہوجاتے ہیں، کچھ دوستوں سے دور رہنے لگتے ہیں، اور بعض اپنے اندر یہ غلط یقین پیدا کرلیتے ہیں کہ شاید وہ واقعی دوسروں سے کمتر ہیں۔
یوں چند بے احتیاط زبانیں کسی بچے کے اعتماد، خوشیوں اور صلاحیتوں پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔
اسلام نے تو اس معاملے میں نہایت واضح رہنمائی دی ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات میں ارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ اسی آیت میں ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ (سورۃ الحجرات: 11)
ذرا غور کیجیے! جس رویے کو ہم معمولی مذاق کہہ کر نظرانداز کردیتے ہیں، قرآن مجید نے اس کی باقاعدہ ممانعت فرمائی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم)
یہ تعلیم انسانی عظمت کا معیار بدل دیتی ہے۔
انسان کی قدر کا فیصلہ اس کی رنگت، قد، دولت، لباس یا ظاہری حسن سے نہیں ہوتا۔ اصل قدر تقویٰ، کردار اور عمل کی ہے۔
تو پھر وہ تعلیمی ادارے جہاں قرآن پڑھایا جاتا ہے، جہاں اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے، جہاں بچوں کو سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے روشناس کروایا جاتا ہے، وہاں اس تعلیم کا عملی اظہار بھی نظر آنا چاہیے۔
یہ بات کسی ایک مدرسے یا اسکول کی نہیں، ہر تعلیمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔
استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں ہوتا؛ وہ بچوں کے اجتماعی رویوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کلاس میں کوئی بچہ دوسرے کی تضحیک کرے تو اسے محض ہنس کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بچے کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ مذاق اور تذلیل میں فرق ہوتا ہے، اور کسی کی جسمانی ساخت یا غربت ہنسی کا موضوع نہیں بن سکتی۔
اسی طرح والدین کو بھی اپنی گفتگو پر پہرہ دینا ہوگا۔ اپنے بچوں کو دوسروں کے لیے باعزت الفاظ استعمال کرنا سکھانا ہوگا۔ اگر کوئی بچہ گھر آکر کسی ساتھی کے متعلق توہین آمیز لقب استعمال کرے تو اسے نرمی مگر سنجیدگی سے روکنا ہوگا۔
اس سے بھی بڑھ کر، ہمیں بچوں کو مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا سکھانا ہوگا۔
اگر کلاس میں کسی بچے کا مذاق اڑایا جارہا ہو تو باقی بچے محض تماشائی نہ بنیں۔ وہ اپنے ساتھی کو عزت دیں، اسے اپنے ساتھ بٹھائیں، اس کے حوصلے کو مضبوط کریں اور ضرورت پڑنے پر استاد کو آگاہ کریں۔
کیونکہ معاشرے میں صرف ظلم کرنے والوں کی اصلاح کافی نہیں، خاموش تماشائیوں کے اندر بھی احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا ضروری ہے۔
میرا بیٹا جب بار بار مجھ سے اس موضوع پر لکھنے کا مطالبہ کرتا ہے تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے دل میں اٹھنے والا یہ سوال ہماری اجتماعی تربیت پر ایک خاموش احتجاج ہے۔
وہ ابھی زندگی کے بڑے فلسفے نہیں جانتا۔ اسے معاشرتی اصلاح کے طویل منصوبوں کا علم نہیں۔ وہ شاید یہ بھی نہیں جانتا کہ کسی قوم کے رویے بدلنے میں کتنی نسلوں کی محنت صرف ہوتی ہے۔
وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ جب کسی بچے کو اس کی رنگت، قد یا کھانے کی وجہ سے شرمندہ کیا جاتا ہے تو اسے تکلیف ہوتی ہے، اور یہ تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔
میں سوچتی ہوں، ہم بڑے اتنا علم حاصل کرکے بھی بعض اوقات وہ بات کیوں نہیں سمجھ پاتے جو ایک معصوم بچہ اپنے محدود مشاہدے سے سمجھ لیتا ہے؟
ہماری الماریوں میں دینی کتابیں موجود ہیں، گھروں میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے، زبان پر اخلاق و کردار کے تذکرے رہتے ہیں، مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے علم اور ہمارے عملی رویوں کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہوگیا ہے؟
ہم دنیا میں بڑے انقلاب لانے کی بات کرتے ہیں، لیکن اپنے گھروں کے اندر زبان کی اصلاح سے گریز کرتے ہیں۔
ہم معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں، مگر اپنی محفلوں سے تحقیر آمیز جملے ختم نہیں کرتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے باعزت زندگی گزاریں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسرے بچوں کی عزت محفوظ رکھنا بھی انہی کی تربیت کا حصہ ہے۔
میرے بیٹے! شاید تمہاری ماں کی ایک تحریر دنیا نہیں بدل سکے گی۔ شاید اسے پڑھنے والے چند لوگ ہوں، شاید بہت سے لوگ پڑھ کر بھول جائیں، اور شاید کچھ لوگ اپنے رویوں کو درست کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔
لیکن اگر اس تحریر کو پڑھ کر ایک ماں اپنے بچے کو کسی کی رنگت کا مذاق اڑانے سے روک دے، ایک باپ اپنے گھر میں کسی غریب کی تضحیک بند کردے، ایک استاد اپنی کلاس میں کسی کمزور بچے کی عزتِ نفس محفوظ کرلے، یا ایک بچہ اپنے ساتھی کو توہین آمیز لقب کے بجائے اس کے اصل نام سے پکارنے لگے، تو تمہاری اس خواہش نے ایک اہم مقصد حاصل کرلیا ہوگا۔
کیونکہ ہر بڑی تبدیلی کا آغاز کسی نہ کسی چھوٹے عمل سے ہوتا ہے، اور مسلسل چھوٹے اعمال ہی معاشرے کی سوچ بدلنے کا راستہ بناتے ہیں۔
ہمیں ایسے بچے تیار نہیں کرنے جو صرف امتحانات میں کامیاب ہوں؛ ہمیں ایسے انسان تیار کرنے ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر کسی دوسرے انسان کو اپنی غربت، رنگت، قد یا ظاہری کمزوری پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
یاد رکھیے! ہمارے بچوں کا اچھا بچپن صرف ان کے اپنے گھر کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ان تمام بچوں کے لیے بھی ایک امانت ہے جو روزانہ ان کے ساتھ پڑھتے، کھیلتے اور وقت گزارتے ہیں۔
اپنے بچے کو اتنا بااخلاق ضرور بنائیے کہ کسی دوسرے بچے کو اس سے مل کر اپنا بچپن بوجھ محسوس نہ ہو۔
اور میرے بیٹے! آج تمہاری ضد پر تمہاری ماں نے یہ تحریر لکھ دی ہے۔ دنیا بدلے یا نہ بدلے، مگر تم اپنے دل کی یہ نرمی اور دوسروں کے لیے یہ احساس کبھی کھونے نہ دینا۔
کیونکہ دنیا کو صرف کامیاب انسانوں کی نہیں، ایسے انسانوں کی بھی ضرورت ہے جو کسی اجنبی بچے کی آنکھ میں ٹھہرا ہوا آنسو دیکھ کر بے چین ہوجائیں۔
شاید معاشرے کی اصلاح کا پہلا چراغ وہیں روشن ہوتا ہے، جہاں ایک بچہ دوسرے بچے کی تکلیف کو اپنا مسئلہ سمجھنے لگتا ہے۔
مزید پڑھیں





