ٹائیگر شروف فائرنگ کیس میں نیا موڑ، بشنوئی گینگ کا نشانہ کون تھا؟ پولیس کا بڑا انکشاف

بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر ہونے والی حالیہ فائرنگ کے کیس میں ممبئی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ حملہ آوروں کا اصل ہدف بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان تھے۔ حملہ آوروں کا تعلق مبینہ طور پر بشنوئی گینگ سے بھی بتایا جارہا ہے، جہاں سے انہیں ہدایات مل رہی تھیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی پولیس ٹائیگر شروف پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کررہی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور کا ٹائیگر شروف سے پہلے بالی وڈ کے سپر اسٹار کو ٹارگٹ کرنے کا ارادہ تھاشوٹرز نے پہلے عامر خان کو نشانہ بنانے کی مصنوبہ بندی کی تھی جس کیلئے انہوں نے اداکار کے گھر کی 3 بار ریکی بھی کی لیکن عامر خان کےفلم کی شوٹنگ کیلئے مسلسل سفر میں رہنے کی وجہ سے وہ اداکار تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکے جس کے بعد انہوں نے ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کی پلاننگ کی۔
پولیس رپورٹس کے مطابق حملہ آور کو ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانا آسان لگا کیونکہ وہ جوہو میں ایک پارک میں کئی ہفتوں سے فٹبال کھیل رہے تھے اور فائرنگ کا واقعہ بھی اسی مقام کے قریب پیش آیاعامر خان کے خلاف مبینہ منصوبے کا تعلق ان دھمکیوں سے جوڑا جا رہا ہے جو انہیں جولائی میں موصول ہوئی تھیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے دی گئی تھیں۔
پولیس کو شبہ ہے کہ تینوں مبینہ حملہ آوروں کو پولیس آپریشن کے بارے میں فوری معلومات ان کے سہولت کاروں کی جانب سے فراہم کی جا رہی تھیں جنہوں نے اس مقصد کے لیے انکرپٹڈ وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول میسجنگ ایپلی کیشنز کا استعمال کیا۔
اس سے پہلے بھارتی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کی تھا کہ اس حملے کا اصل ہدف سلمان خان تھے، لیکن اب پولیس کی مزید تفتیش کے بعد زرائع کا کہنا ہے کہ اصل ہدف عامرخان تھے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق، ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کو شبہ ہے کہ تینوں مبینہ حملہ آوروں کو اپنے سرپرستوں سے خفیہ انٹرنیٹ پیغام رسانی کی ایپس کے ذریعے تفتیش اور پولیس کی کارروائیوں سے متعلق تازہ معلومات مل رہی تھیں۔ ٹی وی چینلز پر حملے کی تصاویر نشر ہونے کے بعد مبینہ طور پر ایک ملزم کو پیغام بھیجا گیا کہ ان کے چہرے سامنے آگئے ہیں، اس لیے وہاں سے نکل جائیں۔
پولیس کے مطابق، ملزمان نے فرار ہونے کے دوران بار بار سفری ذرائع تبدیل کیے۔ وہ موٹر سائیکل، ٹرین اور ٹیکسی کے ذریعے سفر کرتے رہے اور سورت سے بس میں سوار ہونے کا منصوبہ بنایا، تاہم بس ٹرمینل پر تاخیر کے باعث انہوں نے دوسری ٹرین پکڑ لی ممبئی پولیس کی اطلاع پر راجستھان کی کوٹا پولیس نے 19 اکتوبر کو ٹرین میں سفر کے دوران تینوں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت 18 سالہ پھول سنگھ، 18 سالہ ریحان رحی الدین انصاری اور22 سالہ رتھک مہتو کے نام سے ہوئی ہے۔ انہیں 31 اکتوبر تک پولیس تحویل میں دیا گیا ہے۔
تفتیش کے دوران سورت سے دو پستول اور 10 زندہ کارتوس بھی برآمد کیے گئے حکام کے مطابق، اسلحے کو فرانزک اور بیلسٹک جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خولوں سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ، ممبئی کرائم برانچ اور مقامی پولیس کی مشترکہ کارروائی میں اندور سے 22 سالہ پرنجَل ٹھاکران کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس نے مبینہ حملہ آوروں یا منصوبہ بندی میں شامل اہم افراد کو مالی، عملی یا دیگر مدد فراہم کی تھی۔ پولیس کے مطابق، اس گرفتاری کے بعد کیس میں حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ گرفتاریاں راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور ہریانہ میں کی گئی ہیں۔
ممبئی پولیس نے گینگسٹر انیل پنڈت کو بھی اس مقدمے میں مطلوب ملزم قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، لارنس بشنوئی گینگ سے مبینہ تعلق رکھنے والے پنڈت کے بارے میں خیال ہے کہ وہ امریکا میں موجود ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے 18 اکتوبر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ تاہم، واقعے کے تمام پہلوؤں اور ملزمان کے مبینہ رابطوں کی تحقیقات جاری ہیں۔





