پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

موبائل ایک خاموش دشمن، تحریر : فائزہ صابر

نقطہ نظر

آج کے دورِ پُرفتن میں جہاں اور بہت سے فتنے سر اٹھائے پھر رہے ہیں وہی پہ دورِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ " موبائل" ہے۔ جی ہاں! موبائل آج کے دورِ ناگوار کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ خطرناک فتنہ بن چکا ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد کا مشاہدہ کریں تو ہر فرد کے ہاتھ میں موبائل نظر آتا ہے حتیٰ کہ چھوٹے چھوٹے بچوں تک کے ہاتھ میں والدین نے بلا روک ٹوک موبائل تھما دیے ہیں جس کی بدولت بچے ذہنی پسماندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوان نسل جسے ملک و قوم کا سرمایہ کہا جاتا ہے اس فتنے موبائل کی وجہ سے یہ قیمتی سرمایہ جس تیزی سے ضائع ہورہا ہے اس کا خود اس سرمائے ( نوجوان نسل) کو بھی علم نہیں، کہ کیسے اس موبائل نے ان کی ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ہر وقت صرف اور صرف سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی سلب کر لی ہے۔ اگر کچھ باقی ہے تو بس اندھا دھند سستی شہرت کی تقلید اور اسے حاصل کرنے کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک کی جانے والی حماقتیں ہیں۔ گویا کہ نوجوان نسل کا دنیا میں آنے کا مقصد صرف یہ چند دن کی سوشل میڈیا کی سستی شہرت حاصل کرنا ہی رہ گیا ہے۔ بس! اور اس سستی اور دو ٹکے کی شہرت کو حاصل کرنے کے لیے جتنے جتن یہ ہماری نوجوان نسل کررہی ہے نہ اگر اس سے آدھی بھی اپنے مستقبل کو یا اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کر لیں تو یقین جانیں! ضرور کامیاب ہوں گے لیکن یہ دُور کا فائدہ ہے تو شاید اس لئے نظر نہیں آتا اور نظر تو تب آئے جب انسان اپنی زندگی پہ غورو فکر کرے، اپنے آپ کا محاسبہ کرے لیکن یہ غوروفکر یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی تو اس موبائل نے ہم سے چھین لی ہے۔ یہ موبائل تو انسان کو ذرا سی بھی تنہائی میسر نہیں آنے دے رہا جو کہ اسے سوچنے سمجھنے پہ غوروفکر کرنے پہ مجبور کرے۔ حال تو یوں ہے کہ آج کا انسان چاہتا ہے کہ وہ کسی بھی لمحہ اپنے موبائل سے ایک پل کے لئے بھی دور نہ ہو اور اسی بات کے تحت آج کل کھانے کھاتے ہوئے بھی موبائل کا مسلسل استعمال کیا جارہا ہوتا ہے۔ ایک ہاتھ سے لقمہ منہ میں لے جارہے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے موبائل اسکرولنگ چل رہی ہے۔ اور یوں جو کھانا کبھی پانچ سے دس منٹ میں کھا لیا جاتا تھا وہ اب ایک گھنٹے پہ محیط ہو جاتا ہے۔ وقت کا جس قدر ضیاع یہ موبائل کروا رہا ہے اگر انسان اس پہ سنجیدہ ہو کے سوچ لے تو شاید اس کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں۔ نوجوان تو نوجوان نسل، ماؤں نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی اس موبائل کی بیماری میں مبتلا کر لیا ہے۔ اگر انہیں منع کیا جائے تو جواب آتا ہے کہ " میرا بچہ اس کے بغیر کھانا نہیں کھاتا" بچے کو کھانا کھلاتے کھلاتے مائیں کیسے انہیں موبائل کی زہریلی عادت ڈال رہی ہیں یہ وہ خود بھی نہیں جانتی۔ اگر جانتی ہوتیں تو تھوڑی محنت زیادہ کر لیتی لیکن بچوں کو یہ زہرِ قاتل نہ تھماتیں جو اندر ہی اندر ان کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو ختم کررہا ہے۔ نوجوان نسل اور بچے تو پھر بچے ہیں یہ بیماری اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ بوڑھے بھی اس کا شکار ہیں۔ ہمارے والدین جو کہ نئی سے نئی ٹیکنالوجی کو دیکھ کر کہیں مسحور تو کہیں حیران رہ جاتے ہیں۔ ساری ساری رات موبائل اسکرولنگ کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔ ہر چھوٹا، بڑا ، بچہ ، بوڑھا سبھی اس موبائل کے مرض میں اس طرح سے مبتلا ہو چکے ہیں کہ بس! اس سے شفایابی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کیسے کریں؟ جبکہ انہیں اس بات کا ہی علم نہیں یہ ان کے لئے کتنا نقصان دہ ہورہا ہے۔ ساری ساری رات جاگنے کے باعث صبح وقت پہ آنکھ نہیں کھلتی اور جو روزمرہ کے کرنے کے کام ہیں وہ رہ جاتے ہیں اور پھر اس کو اگلے کل پہ ڈال کر یہ سائیکل یونہی چل رہا ہے لیکن تبدیلی کہیں نہیں آ رہی۔ سوشل میڈیا کی زندگی اور حقیقی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے لیکن لوگ اس فرق کو بھلا کر اُن نام نہاد انفلواینسرز کی تقلید میں اندھا دھند ڈوبے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر فحاشی اور عریانی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اسی تیزی سے نوجوان نسل میں ہیجان، بے چینی، ذہنی انتشار، ڈپریشن اور طرح طرح کے نفسیاتی امراض میں اضافہ ہورہا ہے جس کا سلسلہ خود کشی پہ جا کر ختم ہوتا ہے۔ جو کہ آج کل بہت عام ہو چکی ہے۔ ان تمام مسائل کی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہ فتنہ موبائل ہے اور اس سے بڑھ کر انٹرنیٹ جو کہ انتہائی ارزاں قیمت پہ میسر ہے۔ معاشرے میں اس سے ہونے والے ان گنت مسائل ایسے ہیں کہ جنہیں زیرِ بحث لایا جائے تو اس پر بآسانی ایک کتابچہ لکھا جا سکتا ہے۔ ان سب مسائل کا حل یہی ہے کہ انسان کچھ وقت اپنے آپ کے ساتھ گزارے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرے ، لایعنی کاموں کو ترک کر کے کرنے والے کاموں کی طرف آئے۔ اپنے مقصدِ حیات کو پہچانیں۔ آپ اس دنیا میں محض کھانے ، پینے، موبائل چلانے اور سونے نہیں آئے بلکہ اور بہت سے ایسے کام ہیں جو آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ لے کر اٹھیں اور محنت اور کامیابی کی طرف رختِ سفر باندھیں تاکہ ملک و قوم آپ پر فخر کر سکیں۔ اور سب سے بڑھ کر اپنی آخرت کی فکر کریں جس کی پرواہ تو دور سوچ بھی یہ موبائل انسان کے قریب نہیں پھٹکنے دے رہا۔ خدارا! موبائل کا مثبت استعمال کریں اور اسے اپنے لئے صدقہ جاریہ بنائیں۔ اپنی ذات کے ساتھ سنجیدہ ہو کر عمل کا پودا اپنی زندگی میں لگالیں تاکہ اس کا سایہ آپ کو آخرت میں راحت پہنچائے۔

بقولِ شاعر:

نہیں ہے نااُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی