پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچپن برائے فروخت،تحریر: مائرہ حمزہ

نقطہ نظر

یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں بچے کا پہلا کھلونا اسکول کا بستہ نہیں، اینٹوں کا ٹوکرا بن گیا ہے؟ آج ہمارے ملک میں سب سے بڑا ظلم بچوں پر ہو رہا ہے۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے، ان کے ہاتھوں میں ہتھوڑے، استرے اور چائے کے تھرمس تھما دیے گئے ہیں۔ وہ بچے جن کی عمر کھیلنے، ہنسنے اور پڑھنے کی ہے، انہیں کم عمری میں ہی مزدوری کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔ یوں یہ جذباتی بات نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور یونیسیف کی 2025 کی تازہ ترین مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، جن میں سے 66 لاکھ سے زائد خطرناک کاموں میں لگے ہوئے ہیں جو ان کی صحت اور زندگی کے لیے جان لیوا ہیں۔ یہ رپورٹ تقریباً تیس سال بعد پہلی قومی رپورٹ ہے کیونکہ اس سے پہلے آخری سروے 1996 میں ہوا تھا۔ اعداد و شمار صوبہ وار بھی ہوش اڑا دینے والے ہیں۔ سب سے زیادہ بوجھ پنجاب پر ہے جہاں ساٹھ لاکھ سے زائد بچے مزدوری پر ہیں، اس کے بعد سندھ میں سولہ لاکھ، خیبر پختونخوا میں سات لاکھ پینتالیس ہزار، بلوچستان میں دو لاکھ اور اسلام آباد میں پندرہ ہزار بچے مزدوری کر رہے ہیں۔ صرف سندھ کے سروے نے بتایا کہ وہاں کام کرنے والے دس سے سترہ سال کے بچوں میں سے 50 فیصد سے زائد خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں اور ان میں اسکول جانے کی شرح صرف 40 فیصد ہے۔

یہ صرف غربت کا مسئلہ نہیں، یہ سیاسی اور سماجی نظام کی ناکامی ہے۔ سیاسی اور آئینی ناکامی یہ ہے کہ تحفظ بچپن پاکستان کے آئین میں لکھا ہے۔ آرٹیکل 11 غلامی، جبری مشقت اور بچوں کو خطرناک کاموں میں لگانے سے منع کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 25-اے پانچ سے سولہ سال کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991 اور صوبائی قوانین بھی موجود ہیں؛ لیکن قانون صرف کتابوں میں رہ گیا ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں اور 88 فیصد چائلڈ لیبر دیہی علاقوں میں ہے جہاں لیبر انسپیکشن پہنچ ہی نہیں پاتی۔ فنڈز آتے ہیں، تصویریں بنتی ہیں لیکن غریب کا بچہ ووٹ بینک نہیں اس لیے وہ سستی مزدوری کی مشین بنا رہتا ہے۔

سماجی پہلو اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔ ہم نے خود اس ظلم کو قبول کر لیا ہے۔ ہوٹل میں برتن دھوتے بچے کو دس روپے زیادہ دے کر ہم سمجھتے ہیں ہم نے نیکی کی؛ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ وہ اسکول کیوں نہیں گیا۔ ہم اپنے گھروں میں کم عمر بچیوں کو ملازمہ رکھ کر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے مدد کی؛ حالانکہ ہم اس کا بچپن چھین رہے ہوتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ چائلڈ لیبر میں کام کرنے والے 20 فیصد بچے ڈپریشن کا شکار ہیں جو عام بچوں سے تقریباً دگنا ہے۔

ماں باپ مجبور ہیں، کوئی شک نہیں؛ کیونکہ مہنگائی نے کمر جھکا دی ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ مجبوری پیدا کس نے کی؟ جب ایک باپ کو اپنے دس سال کے بیٹے کو 500 روپے روز اجرت پر کسی کے حوالے کرنا پڑے تو سمجھ لیں ریاست مر چکی ہے۔ یہ بچے کل کیا بنیں گے؟ جو بچہ آج گالیاں سن کر، مار کھا کر بڑا ہوگا وہ کل معاشرے سے محبت کیسے کرے گا؟ وہ تو نفرت، انتقام اور جرم ہی سیکھے گا۔ آج کا چائلڈ لیبر کل کا ڈاکو، نشئی اور دہشت گرد بننے کی پہلی سیڑھی ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ یہ صرف حکومت کا کام نہیں۔ والدین، استاد، دکاندار، جاگیردار اور ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا؛ اگر ہم خاموش ہیں تو یہ ظلم ہماری رضا سے ہو رہا ہے۔ خدارا ان کے ہاتھوں سے اوزار لے کر قلم تھما دیں۔