پاکستان سائبر حملوں کے حوالے سے ٹارگٹڈ ملک ، 24 گھنٹے سائبر حملے ہوتے ہیں، چیئرمین پی ٹی اے

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ٹارگٹڈ ملک ہے، جہاں 24 گھنٹے سائبر حملے ہوتے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں جعلی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں۔
سائبر سیکیورٹی آگاہی ویک کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ ملک میں شہریوں کو جعلی فون کالز اور او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) سے متعلق پیغامات موصول ہوتے ہیں، اس لیے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے عوامی آگاہی اور مؤثر پالیسی سازی کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو موصول ہونے والے غلط اور مشکوک پیغامات کو آگے پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ جعلی دھمکیوں اور مختلف نوعیت کے گمراہ کن پیغامات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جبکہ ٹیلی کام سیکٹر بھی سائبر خطرات سے محفوظ نہیں ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) بھی اس حوالے سے کام کر رہا ہے۔ نادرا، پیمرا، پی ٹی اے اور مختلف کمپنیوں نے اپنے سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ سائبر حملوں سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے اداروں کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی) کے اشتراک سے ہفتہ آگاہی برائے سائبر سیکیورٹی 2026 کی اختتامی تقریب اسلام آباد میں ہوئی۔ 17 سے 23 اکتوبر تک ’’محفوظ، مستحکم اور قابلِ اعتماد سائبر اسپیس کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے جاری رہنے والی ملک گیر آگاہی مہم کا مقصد سائبر سیکیورٹی کے محفوظ طریقوں، ڈیجیٹل تحفظ اور درست معلومات کے فروغ سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنا تھا۔ اختتامی تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں، ٹیلی کام آپریٹروں، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
افتتاحی کلمات کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، عطاء اللہ تارڑ نے ذمہ دارانہ ڈیجیٹل ابلاغ، اداروں کے مابین مؤثر رابطوں و سائبر سیکیورٹی کے چیلنجز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے حوالے سے مربوط قومی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ سرکاری اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صنعت، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے نیشنل سائبر سیکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے مجوزہ کونسل کے دائرۂ کار اور عملی طریقۂ کار کی تشکیل کے لیے متعلقہ اداروں سے تجاویز بھی طلب کیں۔
اختتامی کلمات کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، شزا فاطمہ خواجہ نے محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل نظام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے آن لائن تحفظ اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے تسلسل کے لیے سائبر سیکیورٹی سے متعلق آگاہی، ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال اور تمام متعلقہ فریقین کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے، میجر جنرل (ریٹائیرڈ) حفیظ الرحمٰن نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل ماحول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سائبر خطرات، ڈیجیٹل فراڈ اور غلط معلومات کے فروغ پر پی ٹی اے کی جانب سے اقدامات، عوامی آگاہی کی سرگرمیوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل کی اہمیت پر زور دیا۔
یو این ڈی پی پاکستان کے ریزیڈنٹ نمائندے، ڈاکٹر سیموئل رزق نے سائبر سیکیورٹی کی کوششوں میں عوام کو مرکزی اہمیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ باخبر اور بااختیار صارفین پر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کے ساتھ یو این ڈی پی کے اشتراک کا مقصد شہریوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں سرگرم رہنے کے قابل بنانا ہے، خصوصاً ایسے افراد پر توجہ مرکوز کرنا جو آن لائن خطرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
تقریب میں سائبر خطرات اور ڈیجیٹل تحفظ و استحکام سے متعلق پینل مباحثوں کا انعقاد کیا گیا، جبکہ ٹیلی کام آپریٹروں نے سائبر سیکیورٹی سے متعلق اپنی آگاہی سرگرمیوں کو بھی اجاگر کیا۔ واضح رہے کہ پی ٹی اے باہمی تعاون، جدید اقدامات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کے ذریعے عوامی آگاہی اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے
مزید پڑھیں





