بی این ایم کی جنیوا کانفرنس پر پاکستان کا سخت موقف جاری

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں شہریوں کے تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور ریاست کی آئینی رٹ کے نفاذ کے لیے کی جاتی ہیں۔
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی جانب سے 24 ستمبر کو جنیوا پریس کلب میں منعقد کی گئی کانفرنس پر پاکستان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک منعقد ہونے والے ایسے اجتماعات سے بلوچستان کی آئینی اور قانونی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی بی این ایم علیحدگی پسند گروہوں کے وسیع تر نیٹ ورک کا سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم حصہ ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کالعدم مسلح تنظیمیں ہیں اور بلوچستان میں شہریوں، مسافروں، مزدوروں، اقلیتوں اور دیگر غیر جنگجو افراد پر حملوں، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ سمیت سنگین کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
پاکستان کے مطابق بی ایل اے کو امریکا بھی دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے، جبکہ اسلام آباد ان گروہوں اور متعلقہ نیٹ ورکس کو ’فتنۃ الہندوستان‘ کا حصہ قرار دیتا اور بھارت کی جانب سے مالی و عسکری معاونت کے الزامات عائد کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ملک میں آئینی اور عدالتی طریقہ کار، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور کمیشن آف انکوائری آن اینفورسڈ ڈسپیئرنسز سمیت مختلف ادارہ جاتی راستے موجود ہیں،دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں شہریوں کے تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور ریاست کی آئینی رٹ کے نفاذ کے لیے کی جاتی ہیں۔
بیان کے مطابق بلوچستان کی پاکستان سے وابستگی بھی تاریخی اور قانونی حقائق کا حصہ ہے خان آف قلات نے 27 مارچ 1948 کو پاکستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، جبکہ خاران، مکران اور لسبیلہ اس سے قبل مارچ 1948 میں پاکستان سے الحاق کرچکے تھے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ بیرون ملک منعقد ہونے والی علیحدگی پسند کانفرنسیں ان تاریخی اور آئینی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔ اسلام آباد کے مطابق سی پیک، چینی شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا بھی مسلح علیحدگی پسند تنظیموں کی کارروائیوں کا حصہ رہا ہے۔
مزید پڑھیں





