شام میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں،پاکستان کی شدید مذمت، مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ

پاکستان نے شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون اور شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے تمام مقبوضہ شامی علاقوں کو خالی کرنے اور 1974 کے معاہدے کا مکمل احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کو شام کی انسانی اور سیاسی صورت حال پر بر یفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں مقبوضہ شامی علاقہ گولان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، خصوصاً قرارداد 338 اور 497 کے تحت شام کا حصہ ہے۔
عثمان جدون نے شام میں سیاسی انتقالِ اقتدار، قومی مفاہمت اور معاشی بحالی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ملک کی و حد ت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے شامی حکومت کی جامع سیاسی عمل کی کوششوں اور شامی جمہو ری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سویدا سمیت دیگر تنازعات کو بات چیت اور پُرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
https://x.com/PakistanUN_NY/status/2109809548160581889?s=20
پاکستانی مندوب نے کہا کہ شام کی تعمیرِ نو، معیشت کی بحالی اور عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل عالمی تعاون اور انسانی امداد ضروری ہے پابندیوں میں نرمی، سرمایہ کاری میں اضافے اور علاقائی و عالمی اقتصادی شراکت داری سے شام کی بحالی میں مد د مل سکتی ہے انہوں نے داعش اور دیگر دہشتگرد گروہوں، بشمول غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف چوکس رہنے اور شامی سلامتی کے ادار وں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
شام میں اسرائیلی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر تشویش بھی بڑھ رہی ہے گزشتہ ماہ شام کی صورت حال کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے شامی علاقے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ شہریوں کو حراست میں لینے سمیت بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں, بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوب مغربی شام میں مزید علاقوں پر قبضہ کیا اور شامی فوج کے بھاری ہتھیاروں و سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
مزید پڑھیں





