متنازع سمندری حدود میں امریکی جہاز کی موجودگی،چین نے بحری دستے روانہ کر دیے

چینی فوج نے منگل کے روز بحیرہ جنوبی چین (ساؤتھ چائنہ سی) کی متنازع سمندری حدود (سبینا شول) میں داخل ہونے والے امریکی جنگی بحری جہاز کی نگرانی کے لیے بحری دستے روانہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
چینی فوج کی ’سدرن تھیٹر کمانڈ‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی بحریہ کا جنگی جہاز ’یو ایس ایس چارلسٹن‘ منگل کی صبح چین کی اجازت کے بغیر جزائر اسپراٹلی (Spratly Islands) میں سبینا شول سے متصل پانیوں میں داخل ہوا۔
بیان میں امریکی اقدام کو چین کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے چینی بحریہ نے امریکی جہاز کو ٹریک کرنے اور اس کی نگرانی کے لیے فورسز روانہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور امریکا سے اس قسم کی سرگرمیوں بند کرے۔
واضح رہے کہ امریکا عموماً ایسے مشنز کو آزادانہ نقل و حرکت کے آپریشنزقرار دیتا ہے، تاہم بحیرہ جنوبی چین میں اس کا آخری معلوم آپریشن ایک سال سے زائد عرصہ قبل ہوا تھا۔
دوسری جانب فلپائن کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی جہاز نے ’چینی حدود میں دراندازی نہیں کی‘ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی پانیوں میں قانونی ٹرانزٹ کے لیے پیشگی اجازت طلب کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
واضح رہے کہ فلپائن اور امریکا کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ گزشتہ ماہ بھی اسی مقام کے قریب چینی اور فلپائنی کوسٹ گارڈز کے جہازوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس کا الزام دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر عائد کیا تھا۔
بحیرہ جنوبی چین میں ہی منگل کے روز ایک اور واقعے میں چینی کوسٹ گارڈز کے جہاز کی تائیوان کے زیرِ کنٹرول جزائر پراٹاس کے قریب ممنوعہ پانیوں میں داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کی تائیوان کے کوسٹ گارڈز نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق تائیوان کے کوسٹ گارڈز نے چینی جہاز کو وارننگ دینے کے لیے اپنا جہاز ’تائی چنگ‘ روانہ کیا، اس دوران دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو ریڈیو پیغامات نشر کیے
۔
تائیوان کے کوسٹ گارڈ کے مطابق چینی جہاز نے ریڈیو پیغام بھیجا کہ ’ری پبلک آف چائنا (تائیوان کا سرکاری نام) کا کوئی وجود نہیں ہے‘ جس کے جواب میں تائیوان کے جہاز نے جوابی پیغام نشر کیا کہ ’ری پبلک آف چائنا (تائیوان) ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے۔
امریکی کانگریس کے مقرر کردہ ایک جائزہ کمیشن کے سربراہ نے تائی پے میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے تائیوان کے مشرق میں چینی کوسٹ گارڈ کے گشت کو خطے میں عدم استحکام کا باعث قرار دیا ہے،اسی تقریب میں تائیوان کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جوزف وو نے بھی واضح کیا کہ چین کا جزیرے کے مشرق میں موجود سمندری حدود پر کوئی قانونی دعویٰ نہیں ہے۔
مزید پڑھیں




