اتوار، 1 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آبنائے ہرمز کو 2 روز کے اندر مکمل طور پر کھولنے کی تجویز، قطر کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری

Hormuz Crisis: Oil Shock and Global Economic Risks | Baaghi TV

ایران نے نئی تجویز کے تحت آبنائے ہرمز کو 2 روز کے اندر مکمل طور پر کھولنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے قطر کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔


ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ تہران کا فی الحال امریکی حکام سے براہِ راست ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم ایرانی مذاکرات کار دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ بات چیت کر ر ہے ہیں۔


ایران نے اس سے قبل بھی ایک ہفتے میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی تھی، جس کے لیے امریکا سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے کے مطالبات کیے گئے تھے۔ امریکی حکام نے اس سابقہ تجویز کو مسترد کردیا تھا۔


دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم انہیں تہران کے وعدوں پر اعتماد نہیں۔فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران پہلے بھی معاہدے کرکے پیچھے ہٹ چکا ہے، اس لیے دیکھنا ہو گا کہ آیا وہ اس بار اپنے وعدے پورے کرتا ہے یا نہیں۔


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارر و ا ئیوں میں ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور فوجی پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایران کی باقی ماندہ ایک یا 2 جوہری تنصیبات کو بھی مختصر وقت میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے, انہوں نے زیرِ زمین جوہری تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کا بھی ذکر کیا۔


ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے ہفتے کو اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر ایران کی صورتحال اور ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں پر بات کی۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے اور تہران نے کسی نئی امریکی یا اسرائیلی کارروائی کی صورت میں جوابی اقدام کی تنبیہ کی ہے۔


امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج اب تک 144 تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کراچکی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ بھی ناکہ بندی پر عمل درآمد میں معاونت کررہا ہے۔