جرمنی میں احتجاج ، فرینکفرٹ میں دکانوں میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ

جرمنی کے 34 شہروں میں ہزاروں نوجوانوں کے مظاہرے، بہتر تعلیمی سہولتوں، مہنگائی میں کمی اور لازمی فوجی سروس کے خاتمے کا مطالبہ؛ فرینکفرٹ میں مظاہرین نے دکانیں لوٹ لیں جبکہ پولیس پر پیٹرول بم بھی پھینکے گئے۔
جرمنی کے بڑے شہروں میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے ہفتے کی رات پرتشدد صورت اختیار کر گئے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں نقاب پوش مظاہرین نے کم از کم دو دکانوں میں لوٹ مار کی، جبکہ متعدد دیگر دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے امدادی اہلکاروں پر پیٹرول بم بھی پھینکے، جس کے بعد صورت حال قابو میں لانے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔
جرمنی میں ’ جن زی ریگلٹ‘ (Gen Z regelt) نامی مہم کے تحت برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں مظاہرے کیے گئے, منتظمین کا کہنا ہے کہ نوجوان لازمی فوجی سروس کے مخالف ہیں اور تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری چاہتے ہیں، کیونکہ ملک میں بڑھتے ہوئے اخراجات نے نوجوان نسل کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ منتظمین نے ایک لاکھ 82 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم پولیس کے مطابق فرینکفرٹ، میونخ اور برلن میں مجموعی طور پر تقریباً 18 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے۔
جرمنی کی ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوسیک نے خبردار کیا کہ فرانس میں حالیہ احتجاج کے دوران ہونے والی لوٹ مار اور آتش زنی جیسے واقعات کو جرمنی میں دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
حکام کے مطابق ملک کے بائیں بازو کے بعض انتہا پسند گروہ اور بیرونی انتہا پسند تنظیموں سے منسلک عناصر بھی احتجاجی تحریک کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہیمبرگ میں بعض رکاوٹوں کو بھی آگ لگا دی گئی، جبکہ برلن کے مہنگے تجارتی علاقے کرفورسٹینڈام میں متعدد دکانوں نے ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر اپنی کھڑکیاں محفوظ کر لیں اور جلد کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے اخراجات میں کٹوتیاں اور عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ احتجاجی تحریک کو اس سوال کا بھی سامنا ہے کہ آیا یہ واقعی نوجوانوں کی اپنی تحریک ہے یا مختلف سیاسی اور سماجی تنظیمیں اس کے پیچھے ہیں۔ جرمنی کی قومی طلبہ تنظیم بی ایس کے نے اس مہم سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے 20 نومبر کو الگ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب جرمنی کو معاشی ترقی میں سست روی، پنشن کے بڑھتے دباؤ اور عمر رسیدہ آبادی کے باعث عوامی خدمات کے شعبے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں




