Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

یاد رفتگاں رئیس امروہوی ۔ ایک نابغہ عصر شخصیت،تحریر: حفیظ المہندس

نقطہ نظر
hafeez mohn

گلستان اردو کو ان گنت گلہائے رنگا رنگ نے اپنی مہک سے سرشار کیا ہے ۔ متاز دانشور، شاعر ، فلسفی، صحافی اور ماہر علوم باطنیہ رئیس امروہوی بھی ایسی ہی باغ و بہار اور ہمہ صفت موصوف شخصیت تھے جنہیں آج سے ٹھیک 38 برس قبل 22 ستمبر 1988 کو کراچی کے علاقے گارڈن ایسٹ میں واقع اپنے ہی گھر میں گمموت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔ ان کے قاتل کا آج تک پتہ نہیں چل سکا ۔ اس ظالم ، سفاک اور دریدہ دہن انسان نے دامن اردو کو ایک لعل بدخشاں سے محروم کر دیا ۔

رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا ۔آپ 12 ستمبر 1914ء کو یوپی بھارت کے شہر امروہہ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ سید محمد تقی اور معروف شاعر جون ایلیا کے بڑے بھائی تھے۔ 1936 میں صحافت سے وابستہ ہوئے، امروہہ اور مراد آباد کے مختلف اخبارات میں اپنے قلم کےجوہر دکھاتے رہے۔

تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے کراچی آ گئے اور روزنامہ جنگ سے منسلک ہو گئے ۔ جنگ اخبار میں صحافتی کالم کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر فکری، اخلاقی، سماجی اور سیاسی موضوعات پر

ان کا ایک قطعہ شائع ہوتا تھا ۔

رئیس امروہوی کے قطعات اردو شاعری میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور وہ قطعات نگاری کے امام مانے جاتے ہیں۔ آپ کے قطعات ، قصائد اور نوحے اردو ادب کے بیش بہا خزانہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

نثر میں آپ نے نفسیات و فلسفہ اور علوم روحانیت کو موضوع بنایا۔

ان کا مجموعہ کلام شائع ہو چکا ہے اور اردو شاعری میں ایک خاص مقام کا حامل ہے ۔

رئیس امروہوی کے چند منتخب قطعات پیش خدمت ہیں:


مجھے کہنا نہیں

اہلِ وطن سے

کوئی نکتہ رئیس اس کے علاوہ

کہ ہم افراد کا شکو ہ کریں کیوں

کہ ہے بگڑا ہوا ہے آوے کا آوا

×××××××××××

کہنے لگے کہ ہم کو تباہی کا غم

نہیں

میں نے کہا کہ وجہ تباہی یہی تو ہے

ہم لوگ ہیں عذاب الٰہی سے بےخبر

اے بےخبر عذاب الٰہی یہی تو ہے

+++++++++++++

چار طبقے ہیں جو مل سکتے ہیں پاکستان میں

آپ کو ہو خواہ ان طبقوں سے کیسا ہی گریز

حاکمان بے لیاقت، عالمان بے عمل

رہبران بے تدبر، واعظان فتنہ خیز

±+++++++++++++

میزان ہاتھ میں ہے زیاں کی نہ سود کی

تفریق ہی محال ہے بود و نبود کی

پروا نہیں ہے ہم کو خود اپنے وجود کی

لیکن شکایتیں ہیں یہود و ہنود کی

±+++++++++++++

ہم لوگ ہیں واقعی عجوبہ

کیوں آپ میں مست ہیں نہ جانے

سنتے ہیں نیوز بی بی سی سے

آل انڈیا ریڈیو سے گانے