منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات ایک ناگزیر ضرورت ہے،رضوان سعید

Amb-Rizwan

‎ڈیلس: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات رکھنا کسی انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے،ٹیکنالوجی سپرسونک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کے تازہ ترین حل اب سپر انٹیلی جنس" کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں-


‎رضوان سعید شیخ نے ڈیلس کے علاقے ارونگ کے ہوٹل ونڈہم ڈی ایف ڈبلیو ائیرپورٹ میں منعقدہ "پاک یو ایس ٹیک کنیکٹ 2026" سے خطاب کیا، یہ تقریب قونصلیٹ جنرل آف پاکستان ہیوسٹن کے تعاون سے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) اور اوپن گلوبل کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔ 


تقریب میں پاکستان کی نامور آئی ٹی کمپنیوں ابیکس، آربی سافٹ، ایڈو اے آئی، نیکسٹ برج اور ایمومبا سمیت متعدد اداروں نے امریکی کاروباری برادری کے سامنے اپنی خدمات اور مصنوعات پیش کیں۔


‎سفیر رضوان سعید شیخ نے خطاب کا آغاز شرکاء اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے سی ای او فیصل جیدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا، انہوں نے بتایا کہ یہ ایونٹس کی اس سیریز کا تیسرا ایڈیشن ہے، جو 3 برس قبل سلیکون ویلی سے شروع کی گئی تھی اور تب سے مسلسل جاری ہے-


‎سفیر نے کہا کہ اس سیریز کے آغاز کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ امریکا نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے موجودہ اور مستقبل کے آئی ٹی کھلا ڑیوں کی پسندیدہ اور اولین منزل ہے، ٹیکنالوجی سپرسونک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کے تازہ ترین حل اب سپر انٹیلی جنس" کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، اس لیے امریکی مارکیٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اور پاکستان کی سروسز برآمدات کا تقریباً 60 سے 62 فیصد حصہ امریکی مارکیٹ کو جاتا ہے۔


‎سفیر نے آئندہ 10 سے 12 برسوں میں پاکستان کی آبادی کے متوقع عالمی مقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آبادیاتی اہمیت آنے والے بر سوں میں مزید بڑھے گی، پاکستان کی 60 سے 65 فیصد آبادی 30برس سے کم عمر ہے، اور یہی نوجوان ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں ، پاکستان کی نوجوان افرادی قوت اور امریکی مارکیٹ کی جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع مل کر دونوں ممالک کے تعاون کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں-


‎انہوں نے بتایا کہ اس سال ایونٹ کا فارمیٹ گزشتہ دو ایڈیشنز سے مختلف رکھا گیا ہے، اس بار امریکی کارپوریٹ شعبے کی شرکت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، تاکہ پاکستانی کمپنیوں کی ملاقات ایسے امریکی اداروں سے ہوسکے جو مستقبل میں تجارتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی رکھتے ہوں۔


 سفیر نے یہ ب بتایا کہ پاکستان کی "بہترین میں سے بہترین" کمپنیوں کو منتخب کر کے لایا گیا ہےجنہیں انہوں نے پاکستان کے "اسٹار پرفار مرز کی کہکشاں" قرار دیا، ان میں سے بیشتر کمپنیاں پہلے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں کام کر رہی ہیں، اس نئے طریقۂ کار کا مقصد محض کمپنیوں کا تعارف نہیں بلکہ یہ دکھانا ہے کہ پاکستان تیزی سے بدلتی عالمی ٹیک مارکیٹ، مصنوعی ذہانت، سپر انٹیلی جنس اور ان سے وابستہ شعبوں میں کیا کچھ پیش کرسکتا ہے۔


‎سفیر نے شرکاء سے کہا کہ موجودہ دور پاکستان کے لیے ایک اہم لمحہ ہے، جسے عالمی جغرافیائی سیاست، علاقائی صورتحال اور اقتصادی امکانات کے تناظر میں سمجھنا اور تسلیم کرنا ضروری ہے، مئی 2025 میں اپنے خطے میں استحکام ثابت کرنے کے بعد پاکستان خبروں کا مرکز بنا، گزشتہ چھ سات ماہ میں پاکستان نہ صرف خطے بلکہ وسیع تر دنیا میں ایک مستحکم کردار کے طور پر ابھرا ہے، ایک ایسے ملک کے طور پر جو ایران اور امریکا کے درمیان تنازع میں ثالثی کر رہا ہے پاکستان کے پاس آئی ٹی کے شعبے میں صلاحیت بھی موجود ہے اور مستقبل کا وعدہ بھی، انہوں نے واضح کیا کہ یہ دونوں الفاظ وہ سوچ سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں۔


رضوان سعید نے کہا کہ پاکستان نے آج یہاں اپنی ترقی کا وعدہ آپ کے سامنے رکھا ہے، وہ اس سے درست نتائج، درست خیالات اور درست کاروباری روابط اخذ کریں، کیونکہ اس کے ساتھ پاکستان منافع کا وعدہ بھی پیش کر رہا ہے،انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری نما ئندوں پر زور دیا کہ وہ پاکستانی کمپنیوں کی صلاحیتوں اور خدمات کا جائزہ لے کر ممکنہ تجارتی مواقع کی نشاندہی کریں، یہ سیریز وقت کے ساتھ آپ کے دل میں اپنی جگہ بناتی جائے گی۔