بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسدادِ دہشتگردی عدالت کے ججز کی برطرفی کیس:سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل


وفاقی آئینی عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی عدالت  کے ججز کی برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا 22 دسمبر 2025ء کا فیصلہ معطل کر دیا-


وفاقی آئینی عدالت نے انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج درخواست گزار محمد یامین کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ حکومت کی جانب سے ججز کی برطرفی کا نوٹیفکیشن اور اس کی توثیق کرنے والا سندھ ہائیکورٹ کا 22 دسمبر 2025ء کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔


جسٹس محمد کریم خان آغا نے کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی ترمیم سے قبل مقرر ہ مدت کے لیے تعینات ہونے والے ججز پر نئی عمر کی حد (65 سال) کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اہم قانون سازی کا نقطہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عطا کیے گئے قانونی حق کو کسی واضح اور مخصوص قانون سازی کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔


درخواست گزار محمد یامین کو 19 ستمبر 2024ء کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997ء کے تحت ڈھائی (2.5) سال کی مدت کے لیے جج اے ٹی سی-IV (ATC-IV) کراچی تعینات کیا گیا تھا تقرری کے وقت درخواست گزار کی عمر تقریباً 70 سال تھی اور اس وقت رائج قانون میں ججز کی تقرری کے لیے عمر کی کوئی بالائی حد مقرر نہیں تھی۔


تاہم بعد ازاں منظور کیے گئے ‘سندھ اینٹی ٹیررازم ترمیمی ایکٹ 2025ء’ کے تحت ججز کی تقرری اور عہدے پر برقرار رہنے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 65 سال مقرر کر دی گئی اس ترمیم کو بنیاد بناتےہوئے حکومتِ سندھ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے محمد یامین سمیت 3 ججز کو فوری طور پر عہدوں سے فارغ کر دیا تھا، جسے بعد میں سندھ ہائیکورٹ نے بھی درست قرار دیا تھا۔


وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ درخواست گزار محمد یامین بطور جج اے ٹی سی کراچی اپنی ڈھائی سالہ متعین کردہ مدت بلا تعطل مکمل کریں گے، کیونکہ ترمیمی ایکٹ کے تحت طے شدہ 65 سال کی حد کا اطلاق ان کی سابقہ تقرری پر نہیں ہوتا۔