خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں,حنا پرویز بٹ

چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نا پرویز بٹ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں اور حقیقی بااختیاری کے لیے تحفظ، وقار اور مساوی شرکت ضروری ہے۔
ترکمانستان کے شہر عوازا میں منعقدہ بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پنجاب کے عوام کی جانب سے ترکمانستان کی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔
انہوں نے ترکمانستان کو آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان اور ترکمانستان کے دو ستانہ تعلقات کو اجاگر کیا حنا پرویز بٹ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں او ر حقیقی بااختیاری کے لیے تحفظ، وقار اور مساوی شرکت ضروری ہے,امن محض مسلح تنازعے کی عد م موجودگی کا نام نہیں بلکہ اسے گھر،اسکول، کام کی جگہ،عوامی مقامات اورڈیجیٹل دنیا میں بھی محسو س ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد، ہراسگی یا محرومی کے خطرے میں زندگی گزارنے والی خواتین اپنے حقوق کا مکمل استعمال اور صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کرسکتیں۔ خواتین، امن اور سلامتی کے عالمی ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 5 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کا تحفظ، شرکت اور قیادت پائیدار ترقی اور امن کی کوششوں کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے خواتین کے تحفظ کے لیے پنجاب میں قائم مربوط نظام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ویمن پروٹیکشن سینٹرز اور چوبیس گھنٹے فعال خواتین کی ہیلپ لائن کے ذریعے متاثرہ خواتین کو ریسکیو رابطہ کاری، قانونی معاونت، طبی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور محفوظ رہائش کے لیے متعلقہ اداروں سے منسلک کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ قوانین ضروری ہیں، تاہم مؤثر اداروں، تربیت یافتہ عملے، قابل رسائی خدمات، احتساب اور عوامی آگاہی کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ تشدد کی روک تھام کا آغاز تعلیم، احترام اور معاشی مواقع سے ہوتا ہے تاکہ ہر بچی کو معلوم ہو کہ اس کی حفاظت، آواز اور خواب اہم ہیں۔
حنا پرویز بٹ نے خواتین کی معاشی اور عوامی زندگی میں شرکت بڑھانے کے لیے محفوظ کام کی جگہو ں، ڈے کیئر سہولیات، ہنر اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور ملازمت پیشہ خواتین کے لیے محفوظ رہائش جیسے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔
ڈیجیٹل ماحول کا ذکر کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے کہاکہ ٹیکنالوجی نے تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کے مواقع بڑھائے ہیں، تاہم ہراسگی، استحصال اور بدسلوکی کی نئی صورتیں بھی سامنے آئی ہیں ڈیجیٹل دور میں خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ڈیجیٹل تحفظ، رازداری، قانونی آگاہی اور مؤثر ادارہ جاتی ردعمل بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ خواتین صرف امن سے فائدہ اٹھانے والی نہیں بلکہ امن کی معمار ہیں۔ قانون سازی، سرکاری اداروں، معاشرتی قیادت، معاشی فیصلہ سازی اور قیامِ امن کے عمل میں خواتین کی آواز ضروری ہے۔
ترکمانستان کو 2028 کو عالمی قانون کا سال قرار دینے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی قانون کے اصول قومی اداروں اور عملی اقدامات میں بھی نظر آنے چاہییں تاکہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
حنا پرویز بٹ نے تین ترجیحات پیش کیں جن میں خواتین اور بچیوں کو تشدد اور امتیاز سے تحفظ فراہم کرنا، تعلیم، صحت، ہنر اور معاشی مواقع تک رسائی بڑھانا اور فیصلہ سازی و قیامِ امن میں خواتین کی مکمل اور بامعنی شرکت یقینی بنانا شامل ہیں, انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ عزم کو عملی تعاون، مضبوط اداروں اور قابلِ پیمائش پیش رفت میں تبدیل کیا جائے۔
مزید پڑھیں




آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکراگیا

