بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس جاری

shehbazzz

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس شروع ہو گیا ہے جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں-

اجلاس میں  جس میں وفاقی وزرا رانا ثنا اللہ، محسن نقوی، امیر مقام، رانا تنویر، علیم خان اور دیگر اہم شخصیات شریک ہیں،ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی بی فہد اسد اللہ وفاقی کابینہ کے اراکین کو سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی-


 خیبرپختونخوا کی صورتحال پر پولیس اور حساس اداروں کی خصوصی رپورٹس وزیراعظم اور  وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی،  اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، سیکیورٹی اداروں کی استعداد اور صوبائی حکومت کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔


اجلاس میں پولیس اور حساس اداروں کی خصوصی سیکیورٹی رپورٹس پیش کیے جانے کا امکان تھا، جن میں یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔


حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق 2026 میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے بنے۔ رپورٹ میں افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر، مقامی سہولت کاروں اور صوبائی سطح پر انسدادِ دہشتگردی اقدامات میں مبینہ خامیوں کو سیکیورٹی خطرات میں اضافے کی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ دہشتگرد نیٹ ورکس، سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط کو بھی سنگین چیلنج بتایا گیا ہے۔


رپورٹ میں دہشتگردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے مطابق 2024 میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر ڈرون حملوں کی کوئی اطلاع نہیں تھی، جبکہ 2026 میں ان حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی اسی طرح بارودی حملو ں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 2025 میں دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات (آئی ای ڈی) کے 181 حملے ہوئے، جبکہ رواں سال ستمبر تک ایسے 159 حملے رپورٹ کیے گئے۔


سیکیورٹی رپورٹس میں خیبرپختونخوا پولیس کی استعداد سے متعلق متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ صوبائی پولیس میں 9 ہزار سے زا ئد آسامیاں خالی ہیں، جبکہ پولیس اور انسدادِ دہشتگردی محکمہ (سی ٹی ڈی) کو جدید ہتھیاروں، آپریشنل سازوسامان، نگرانی کے آلات، نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی کی کمی کا سامنا ہے۔ دہشتگردی سے متاثرہ جنوبی اضلاع میں بکتر بند اور محفوظ گاڑیوں کی کمی کو بھی پولیس کی نقل و حرکت اور آپریشنل صلاحیت میں رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔؎


رپورٹ کے مطابق صوبے کا سیف سٹی منصوبہ تاحال پشاور تک محدود ہے، جبکہ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو تربیت اور وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ سی ٹی ڈی میں خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں، ضلعی دفاتر اور جدید آپریشنل انفراسٹرکچر کی کمی بھی نمایاں کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، ادارہ جاتی کمزوریوں اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں موجود خلا پر تشویش کا اظہار کیا اور صورتحال کے اسباب اور ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔