بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سعودی عرب، جہاں حرمین کی حرمت ریاستی ذمہ داری،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

نقطہ نظر
hafi masood ahar

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ صرف دو مقدس شہر نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ایمان، عقیدت کا مظہر اور روحانی مرکز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں دین، قرآن، سنت، مقام رسالت ﷺ اور حرمین شریفین سے متعلق معاملات محض سوشل میڈیا کی بحث نہیں رہتے بلکہ ریاستی ذمہ داری، قانونی نظم اور اجتماعی دینی شعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔حالیہ دنوں ریاض پولیس نے ایک خاتون کو ایسے ویڈیو مواد سمیت گرفتار کیا جس میں دینی ثوابت اور مذہبی اقدار سے تجاوز کیا گیا تھا اور معاملہ قانونی کارروائی کے لیے نیابت عامہ کے سپرد کیا گیا۔ یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ گرفتاری یا حوالگی کو عدالتی سزا کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی اداروں اور عدالتوں کا اختیار ہے۔لیکن اس واقعے نے ایک بنیادی سوال ضرور اٹھا دیا ہے: کیا مقام نبوت ﷺ اور دینی ثوابت کو جدید نظریاتی تجربات اور غیر محتاط فکری تعبیرات کے لیے کھلا میدان بنا دیا جائے؟

سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ویڈیو کے بارے میں جو مفہوم بیان کیا جا رہا ہے اس میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ مرد خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو اپنی "مردانہ شناخت" یا صنفی رجحان سے متاثر ہوسکتا ہے اور اسی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کے بعض شرعی اقوال ا و ر فیصلوں کو مردانہ جانب داری کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی۔

اگر ویڈیو میں واقعی یہی مفہوم بیان ہوا ہے تو یہ محض ایک فقہی اختلاف نہیں بلکہ مقام نبوت اور منصب رسالت کے بارے میں ایک نہایت سنگین نوعیت کی گستاخی ہے۔نبی کریم ﷺ یقینا بشر تھے لیکن آپ ﷺ عام بشر نہیں تھے بلکہ آپ ﷺ اللہ کے منتخب رسول تھے جنہیں وحی کے ابلاغ کی ذمہ داری دی گئی تھی ۔ سورۃ النجم کی آیت نمبر 3اور 4کا ترجمہ ہے ’’ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے ۔ یہ تو صرف وحی جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ دین، تشریع اور ہدایت کے باب میں اپنی خواہش سے گفتگو نہیں فرماتے۔یعنی جب آپ ﷺ اللہ کا دین بیان کرتے احکام پہنچاتے اور شریعت کی رہنمائی فرماتے تو اسے محض انسانی صنفی یا ذاتی مفاد کا نتیجہ قرار دینا اسلامی تصورِ نبوت سے متصادم ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۃ الحاقہ میں فرماتے ہیں :اور اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات یا جھوٹ بنا لاتے تو ہم کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر ان کی رگ ِ گردن کاٹ دیتے ۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالی پر اپنی طرف سے کوئی بات منسوب نہیں کرسکتے تھے۔ منصب رسالت خواہشات، ذاتی مفادات اور نظریاتی تجربات کا میدان نہیں بلکہ وحی، امانت اور ذمہ داری کا منصب ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے عورت کو علمی مقام دینے کے لیے کسی جدید نظریے کا انتظار نہیں کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی روشن ترین مثال ہیں۔ وہ امت کی عظیم ترین محدثات، فقیہات اور عالمات میں شمار ہوتی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ لہذا یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ چونکہ مرد تھے اس لیے خواتین کے معاملات میں آپ ﷺ کے فیصلے لازماََ مردانہ جانب داری سے متاثر ہوسکتے تھے اسلامی علمی روایت کی بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنا ہے۔مسئلہ مرد یا عورت ہونے کا نہیں بلکہ مسئلہ وحی رسالت، علم اور امانت کا ہے۔ کسی لفظ یا جملے کا حکم اس کے سیاق، نیت اور انداز سے بھی متعین ہوتا ہے۔ محض کسی ایک لفظ کو الگ کرکے قطعی حکم لگا دینا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے غیر معمولی احترام کا درس دیاہے بلکہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار ہی عزت اور احترام رسول مقبول ﷺ پر رکھا گیا ہے ۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی جدیدیت یا Vision 2030کے عنوان سے مذہبی شعائر کے بارے میں ایسی بحثیں سامنے آتی ہیں جن میں اصل دینی اصولوں کو جدید سماجی تصورات کے تابع کرنے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔ کبھی قرآن کی آیات کی ایسی تعبیر سامنے آتی ہے جو تفسیری اصولوں سے کٹ جاتی ہے۔ اور کبھی مقام رسالت ﷺ کے بارے میں ایسے نفسیاتی یا صنفی نظریات استعمال کیے جاتے ہیں جو اسلامی تصورِ نبوت سے ہر گز ہم آہنگ نہیں ہیں ۔

یہاں یہ سوال ہے کہ کیا یہ سب محض الگ الگ واقعات ہیںیا ان کے پیچھے کوئی وسیع تر فکری یا ڈیجیٹل رجحان موجود ہے؟

حق اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ بغیر ثبوت کسی فرد، تنظیم یا ریاست کو کسی منظم سازش کا ذمہ دار قرار نہ دیا جاء بلکہ تحقیق، شواہد اور قانونی کارروائی ہی اس سوال کا درست جواب دے سکتی ہے۔ایسے واقعات میں سعودی ریاست کا پیغام واضح ہے کہ ترقی اور جدیدیت کا مطلب دینی شناخت سے دستبرداری نہیں۔سعودی عرب کی جدید تعمیر، معاشی ترقی اور عالمی سطح پر تبدیلیوں کے باوجود قرآن، حرمین شریفین اور اسلامی مقدسات کی حرمت ایک بنیادی قومی اور ریاستی قدر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی ثوابت سے متعلق حساس معاملات میں ریاستی ادارے قانون کے تحت کارروائی کرتے ہیں۔ یہ پیغام صرف سعودی شہریوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے کہ اسلامی دنیا جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معاشی ترقی اور عالمی روابط میں آگے بڑھ سکتی ہے مگر اس ترقی کی قیمت قرآن، سنت اور مقام رسالت ﷺ کی حرمت کی قربانی نہیں ہوسکتی۔سعودی عرب کی سب سے بڑی امتیازی شناخت اس کی تیل کی دولت، بلند عمارتیں یا معاشی منصوبے نہیںبلکہ اس کی سب سے بڑی شناخت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی خدمت ہے۔حرمین شریفین کی مسلسل توسیع، زائرین کے لیے سہولیات، حج و عمرہ کے انتظامات، قرآن کریم کی طباعت و اشاعت اور دنیا بھر سے آنے والے مسلمانوں کی خدمت ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کی اہمیت پوری امت مسلمہ تسلیم کرتی ہے۔اسی لیے سعودی عرب کی طرف سے دینی ثوابت اور مقدسات کے تحفظ کے بارے میں سخت موقف کو صرف ایک داخلی قانونی مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ معاملہ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات اور عقیدے سے بھی وابستہ ہے۔

پاکستان کو بھی اس معاملے سے ایک اہم سبق حاصل کرنا چاہیے۔ہمیں سعودی عرب کی سیاسی یا انتظامی ساخت کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اپنے آئین، قانون اور اسلامی تشخص کے مطابق قرآن، سنت، ختم نبوت، مقام رسالت ﷺ اور اسلامی مقدسات کے احترام کو عملی سطح پر مضبوط کرنا ضرور چاہیے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسرے کے مقدس ترین عقائد کو پامال کرنے کا حق حاصل کرلے۔ علمی اختلاف اپنی جگہ لیکن توہین، تمسخر، تحریف اور دینی مقدسات کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو کو علمی آزادی کا نام دینا ایک خطرناک رویہ ہے۔

یہی وہ سعودی عرب ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں حرمین کی خدمت محض ایک انتظامی فریضہ نہیں، جہاں قرآن محض ایک مقدس کتاب نہیں بلکہ ریاستی و اجتماعی شناخت کا مرکز ہے جہاں مقام رسالت ﷺ محض تاریخی شخصیت کا عنوان نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے جہاں دینی ثوابت سے تجاوز کو محض "ایک رائے" کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاتا۔سعودی عرب سے اختلافات یا سیاسی مباحث اپنی جگہ ہوسکتے ہیں، لیکن حرمین شریفین کی خدمت اور ان کے تحفظ کی ذمہ داری کو انصاف کے ساتھ تسلیم کرنا چاہیے۔آج جب دنیا بھر میں مذہبی شناخت، اخلاقی اقدار اور مقدسات کے احترام کے سوالات نئے چیلنجز سے دوچار ہیںان حالات میں سعودی عرب کا یہ موقف ایک واضح پیغام دیتا ہے:ترقی کیجیے، جدید ٹیکنالوجی اختیار کیجیے، دنیا کے ساتھ آگے بڑھیے؛ لیکن قرآن، سنت، حرمین اور مقام رسالت ﷺ کی حرمت کو ترقی کی راہ میں قربان نہ کیجیے۔ اللہ تعالی سعودی عرب کو حرمین شریفین کی خدمت کی توفیق مزید عطا فرمائے، اس کی حفاظت فرمائے، اس کے حکمرانوں، علما اور عوام کو خیر و عافیت عطا فرمائے، اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو ہمیشہ امن، ایمان اور توحید کا مرکز بنائے۔آمین یا رب العالمین۔