آرچ بشپ آف کینٹربری کا ایوارڈ واپس ہونے پر طاہر اشرفی کا ردعمل

آرچ بشپ آف کینٹربری کے دفتر نے پاکستان علما کونسل کے سابق سربراہ حافظ طاہر اشرفی کو دیا گیا بین المذاہب ہم آہنگی و تعاون کا ایوارڈ واپس لینے کا اعلان کردیا۔
آرچ بشپ آف کینٹربری کے مطابق 2007 میں پاکستان علما کونسل کی سربراہی کے دوران حافظ طاہر اشرفی نے اسامہ بن لادن کو ’’سیف اللہ‘‘ کا لقب دیا تھا، جس کا مطلب ’’اللہ کی تلوار‘‘ ہے۔حافظ طاہر اشرفی کو جمعہ کے روز نائن الیون کے 35ویں سال کے موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی اور تعاون کے لیے ایوارڈ دیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ انہیں ڈیم سارہ ملی نے پیش کیا تھا۔ ایوارڈ دینے کے فیصلے کے بعد تنازع سامنے آنے پر آرچ بشپ آف کینٹربری کے دفتر نے معاملے کا فوری جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ایوارڈ ملنے کے فوراً بعد بھارت، اسرائیل اور پاکستان میں موجود ایک مخصوص لابی ان کے خلاف سرگرم ہوگئی۔ ان کے مطابق اسامہ بن لادن سے متعلق ان کے ماضی کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے تھے جب پاکستان میں سلمان رشدی کو ’’سر‘‘ کا خطاب دیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔حافظ طاہر اشرفی کے مطابق انہیں دو تین روز قبل بتایا گیا کہ توہینِ ناموسِ رسالت اور توہینِ مذہب کے قوانین کے حوالے سے ان کا موقف بہت سخت ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ اپنا موقف تبدیل نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ توہینِ ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، تاہم ان کے مطابق اس قانون کی وجہ سے بہت سی جانیں محفوظ ہوئی ہیں، اس لیے قانون برقرار رہنا چاہیے۔علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ امن، بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے ان کی کوششوں کے باعث خود آرچ بشپ آف کینٹربری نے تقریباً دو ماہ قبل ان سے رابطہ کرکے انہیں لمبیتھ ایوارڈ کے لیے منتخب کیے جانے سے آگاہ کیا تھا۔
دوسری جانب نیشنل سیکولر سوسائٹی نے حافظ طاہر اشرفی کو ایوارڈ دیے جانے کے فیصلے کو ’’انتہائی مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا تھا۔ سوسائٹی کا کہنا تھا کہ یہ تقریب نائن الیون کے دہشت گرد حملے کی برسی کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں





