اردن میں کلیسا پر دہشتگرد حملہ،تحریر:پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہا ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک، مذہب یا سرحد تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات معاشروں کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور ریاستوں کے باہمی تعلقات تک پھیل جاتے ہیں۔ اُردن میں ایک مسیحی کلیسا ء (چرچ)کے اندر تدفین کی رسومات کے دوران ہونے والی فائرنگ اور اس کے بعد شام میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں پر اُردنی فضائی حملے بظاہر دو الگ واقعات دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے درمیان ایک اہم تعلق سامنے آیا ہے: ایک ملک کے اندر شہریوں پر حملے کے مبینہ منصوبہ سازوں کے سرحد پار روابط اور ان کے خلاف ریاستی ردعمل۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، 23 اکتوبر 2026ء کو اردن کے صوبے کرک کے علاقے حمود میں ایک یونانی آرتھوڈوکس کلیسا ء (چرچ)میں جنازے کے موقع پر مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ ابتدائی اطلاعات میں سات افراد کی ہلاکت اور کم از کم 34 افراد کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا، جبکہ بعد کی رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد نو تک پہنچ گئی۔ اس واقعے نے اُردن کی مسیحی اقلیت سمیت پورے معاشرے کو صدمے سے دوچار کر دیا۔
یہ محض ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں تھا؛ یہ ایسے مقام پر انسانی جانوں پر حملہ تھا جہاں لوگ اپنے کسی عزیز کو آخری الوداع کہنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ جنازہ سوگ، احترام اور اجتماعی ہمدردی کا موقع ہوتا ہے۔ وہاں گولیوں کی آوازیں بلند ہونا اس انسانی حرمت کی پامالی ہے جسے مذہب، تہذیب اور قانون یکساں اہمیت دیتے ہیں۔
27 اکتوبر 2026ء کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، اُردن کی فضائیہ نے جنوبی شام میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں اُردنی حکام نے مسلح اور دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے قرار دیا۔ اُردن کا مؤقف ہے کہ ان مقامات کے روابط کرک کے کلیسا ء (چرچ)پر حملے میں ملوث مشتبہ افراد سے تھے۔ اُردنی فوج نے کارروائی میں مبینہ عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے، نیز گاڑیوں کی تباہی کی اطلاع دی۔ تاہم، حملوں کے مخصوص اہداف اور ہلاکتوں کی مکمل تفصیلات ابتدائی بیانات میں واضح نہیں کی گئیں۔
اس کارروائی کو محض انتقامی حملہ قرار دینا صورتِ حال کی پوری تصویر پیش نہیں کرتا۔ اُردن کے لیے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا کلیسا پر حملے میں ملوث عناصر کو سرحد پار سے مدد، پناہ یا وسائل حاصل تھے؟ اگر تفتیش میں ایسے روابط کے ٹھوس شواہد ملے ہوں تو اُردن نے ان خطرات کو اپنے قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا ہوگا۔ تاہم، اس پہلو کی مکمل تصدیق کے لیے شواہد اور تفتیشی نتائج کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔
دوسری طرف، شام کی حکومت نے اس کارروائی پر اعتراض کیا اور کہا کہ حملے پیشگی رابطے یا اطلاع کے بغیر کیے گئے۔ شامی حکام کے مطابق، جنوبی صوبوں درعا اور سویدا میں حملوں کے نتیجے میں شہری بھی ہلاک ہوئے۔ ابتدائی اطلاعات میں سات شہریوں کی ہلاکت بیان کی گئی، جن میں بچے اور ایک ہی خاندان کے افراد شامل تھے۔ شام نے معاملے کی تحقیقات شروع کرنے اور اردن سے رابطے کا اعلان بھی کیا۔
یہیں سے اس واقعے کا ایک پیچیدہ پہلو سامنے آتا ہے: ایک ریاست اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے کارروائی کرتی ہے، لیکن اگر اس کارروائی میں دوسرے ملک کے بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو اس کے قانونی، اخلاقی اور سفارتی نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔
اُردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کلیسا پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔ 26 اکتوبر کو اُردنی حکام نے تین مشتبہ افراد، جن میں دو بھائی اور ان کا بہنوئی شامل تھے، کی گرفتاری کی اطلاع بھی دی۔ حکام کے مطابق، گرفتاری سے پہلے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ تاہم، ابتدائی سرکاری بیانات میں یہ واضح نہیں تھا کہ حملہ آور کسی منظم تنظیم کے باقاعدہ ارکان تھے یا نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تین امور کو الگ الگ سمجھا جائے: کلیسا پر حملے کی ذمہ داری، مشتبہ افراد کے بیرونی روابط، اور شام میں فضائی کارروائی کی قانونی بنیاد۔ ان تینوں معاملات کو ایک ہی نتیجے میں سمو دینا درست نہیں ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی صرف فضائی حملوں یا گرفتاریوں تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے لیے انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی، مالی وسائل کی روک تھام، انتہا پسندانہ نظریات کے پھیلاؤ کی روک تھام اور منصفانہ عدالتی کارروائی بھی ضروری ہیں۔ اگر نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے والے عوامل کو سمجھنے اور ان کا تدارک کرنے کی کوشش نہ ہو تو ایک کارروائی کے بعد بھی ایسے خطرات دوبارہ پیدا ہوسکتے ہیں۔
شام میں اُردن کے حملوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے بھی ایک اہم امتحان پیدا کیا ہے۔ اُردن نے دعویٰ کیا کہ کارروائی شامی حکومت کے ساتھ رابطے میں کی گئی، جبکہ دمشق نے اس کی تردید کرتے ہوئے پیشگی رابطے کی عدم موجودگی پر اعتراض کیا۔ بعد ازاں شام کی جانب سے اہم سرحدی گزرگاہ بند کرنے کی اطلاع بھی سامنے آئی، جس سے تجارت اور آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ یہ اختلاف محض سفارتی بیان بازی نہیں۔ دونوں ملکوں کی سرحدی سلامتی، مسلح گروہوں کی نقل و حرکت اور خطے میں استحکام کے لیے باہمی تعاون اہم ہے۔ اگر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں دونوں ریاستوں کے درمیان عدم اعتماد کو بڑھا دیں تو ان کا فائدہ ان عناصر کو پہنچ سکتا ہے جو خطے میں بدامنی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
اس صورتِ حال میں اُردن اور شام کے لیے بہتر راستہ یہ ہوگا کہ مشترکہ تحقیقات، انٹیلی جنس کے تبادلے اور سرحدی نگرانی کے مؤثر طریق? کار پر اتفاق کریں۔ اگر کسی فریق کے پاس دوسرے ملک میں سرگرم مسلح گروہوں کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں تو انہیں مناسب سفارتی اور قانونی ذرائع سے پیش کیا جانا چاہیے۔ فوری خطرے کی صورت میں بھی شہری آبادی کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
کلیساء (چرچ) پر حملے کا ایک تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ تشدد نے ایک مذہبی اقلیت کے افراد کو نشانہ بنایا، جو اپنے عزیز کی تدفین کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اُردن میں مسیحی برادری طویل عرصے سے معاشرے کا حصہ ہے۔ ایسے واقعات مذہبی آزادی اور شہری تحفظ کے بارے میں خدشات پیدا کرتے ہیں۔
تاہم، اس واقعے کو کسی ایک مذہب یا پوری برادری کے خلاف الزام تراشی کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔ دہشت گردی کا مسئلہ مخصوص مجرمانہ افعال، انتہا پسندانہ نظریات اور ان کے ذمہ دار افراد سے متعلق ہے۔ اجتماعی الزام تراشی معاشرتی تقسیم کو گہرا کرتی ہے، جبکہ قانون کی غیر جانب دارانہ عمل داری مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرسکتی ہے۔
اُردن کے کلیسا میں ہونے والا حملہ اور اس کے بعد شام میں کی جانے والی فضائی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور ریاستی ذمہ داری کے باہمی تعلق کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کسی ملک کے اندر پیدا ہونے والا تشدد پڑوسی ملک کی سلامتی اور سفارتی تعلقات کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
لیکن ایک اہم اصول نظرانداز نہیں ہونا چاہیے: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا معیار صرف دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا نہیں، بلکہ شہریوں کو محفوظ بنانا، مجرموں کو قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر انصاف کے کٹہرے میں لانا اور تشدد کے دوبارہ جنم لینے کے امکانات کو کم کرنا بھی ہے۔
اگر اردن کی کارروائی نے واقعی دہشت گرد نیٹ ورک کی صلاحیت محدود کی ہے تو یہ اس کی سلامتی کے لیے اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی جانیں گئیں اور دو ہمسایہ ممالک کے درمیان بداعتمادی بڑھی تو اس کے نتائج کا سنجیدہ جائزہ بھی ناگزیر ہوگا۔
خطے کو اس وقت ایسی حکمتِ عملی درکار ہے جو دہشت گردی کے خلاف مضبوط عزم کو قانون، سفارت کاری اور انسانی جان کے احترام کے ساتھ جوڑے۔ کیونکہ امن صرف خطرات کو ختم کرنے سے نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے سے بھی قائم ہوتا ہے جن میں تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کو دوبارہ پنپنے کا موقع نہ ملے۔
ؔ(تحقیقی نوٹ: اس کالم میں 27 اکتوبر 2026ء تک دستیاب اطلاعات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ کلیسا (چرچ) پر حملے کے محرکات، مشتبہ افراد کے بیرونی روابط اور شام میں کارروائی کی تفصیلات کے بارے میں تحقیقات جاری ہونے کے باعث حتمی ذمہ داری اور قانونی جواز سے متعلق فیصلے شواہد سامنے آنے کے بعد ہی کیے جانے چاہییں۔)
مزید پڑھیں





