افغان طالبان رجیم اندر سے بکھرنے لگی،مسلح مزاحمت میں مسلسل شدت

افغان طالبان رجیم اندر سے بکھرنے لگی مسلح مزاحمت میں مسلسل شدت آ رہی ہے اور اس کا دائرہ ملک بھر میں پھیل رہا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کابل، سرِپل، قندھار، بدخشان، کنڑ، نورستان، پروان اور پکتیا میں مزاحمتی گروہوں کی جانب سے 10 مسلح کارروائیاں کی گئیں، جن میں طالبان کی چیک پوسٹوں، گاڑیوں، اجتماعات اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں 17 طالبان اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) نے نورستان اور سرِپل میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی، جبکہ گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے طالبان کی متعدد پوزیشنز پر قبضہ کیا اور نورستان اور کنڑ کے بعض علاقوں سے رجیم فورسز کو پیچھے دھکیل دیا۔
سابق افغان آرمی جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار، کابل اور بدخشان میں کارروائیاں جاری رکھی ہیں، جن میں طالبان کے کمانڈ اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ دوسری جانب نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ (NIF) نے پکتیا، سالنگ اور قندھار میں طالبان کی عسکری گاڑیوں اور سکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
مزید پڑھیں




