وفاقی وزیرنے پی ٹی آئی کے سامنے رکھے گئے مطالبات کے حوالے سے بڑے سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات میں سے کونسا مطالبہ غیر آئینی یا بس سے باہر ہے؟-
طارق فضل نے کہا کہ پہلا مطالبہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں کی مذمت کرنا تھا، دوسرا مطالبہ صو بے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ اور تیسرا افغانستان سے متعلق خارجہ پالیسی پر عمل درآمد تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی، پانچواں مطالبہ کے پی پولیس ایکٹ پر نظر ثا نی، چھٹا مطالبہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں افواج کے ساتھ تعاون اور ساتواں مطالبہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا، سہیل آفریدی خود یا کوئی صوبائی نمائندہ مذاکرات میں شامل ہوتا تو بہتر تھا،اصل مقصد لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا فریقین لچک دکھائیں تو مذاکرات اب بھی ہوسکتے ہیں، دہشتگردی کا معاملہ 26 سال پرانا ہے، 72 گھنٹے میں حل کرنا مشکل ہےوفاقی حکومت کو نیشنل ایکشن پلان صوبے کی حکومت سے بات کرنی چاہیے، تھوڑا وقت دیا جاتا تو مذاکرات کامیاب ہوسکتے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کا ضلع لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اتوار کے شب کرک پہنچ گیا ہے،۔پی ٹی آئی نے اپنے لانگ مارچ کآ آغاز اتوار کی دوپہر ایسے وقت میں کیا ہے جب جمعہ اور سنیچر کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کے دو ادوار ناکام رہے تھے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کی شب مذاکرات میں ’99 فیصد معاملات طے‘ پا چکے تھے، لیکن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا جبکہ تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ عمران خان تک رسائی کا بنیادی مطالبہ تسلیم نہ کرنا اور شدت پسندی سے نمٹنے سے متعلق حکومتی مطالبے سے تھا۔
مذاکرات میں حکومت اور اس کے اتحادی وفد کی نمائندگی رانا ثنا اللہ، محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے، جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ نے کی تھی۔
ان مذاکرات میں شامل حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں نے اتوار کی شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مذاکرات میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات اور ڈیڈ لاک کی وجوہات بیان کی ہیں۔تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کے رُکن اور سینیئر رہنما عامر ڈوگر کے مطابق ’کئی معاملات پر بات چیت ہوئی، بعض نکات پر اتفاق بھی ہو گیا جبکہ کچھ معاملات پر گفتگو جاری تھی۔ لیکن تین بنیادی وجوہات تھیں جن پر ڈیڈلاک ہوا۔‘
’پہلی، عمران خان صاحب سے ملاقات، جس پر حکومت راضی نہیں ہوئی۔ دوسری وجہ عمران خان صاحب کی صحت، علاج معالجہ اور ذاتی معالجین کو سابق وزیر اعظم تک رسائی سے متعلق تھی، تاہم حکومت اس پر بھی آمادہ نہیں ہوئی۔‘عامر ڈوگر کے مطابق تیسری وجہ ’خیبر پختونخوا کی سکیورٹی اور دہشت گرد ی سے متعلق پالیسی تھی جس پر ہمارا مؤقف تھا کہ کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ طور پر نہ کیا جائے اور اس حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر مشترکہ اور متفقہ لائحۂ عمل بنائے۔ تاہم حکومت اس معاملے پر وسیع مشاورت کے بجائے 72 گھنٹوں میں جلد بازی سے فیصلے کرنا چاہتی تھی، جس پر مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوئے۔
‘ایوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کے رُکن اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے مطابق ’مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ حکومتی اصرار تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت وفاق اور اُس کے اداروں کے اُن تمام اقدام اور آپریشنز کی تائید کرے جو صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے کیے جائیں گے جبکہ ضم اضلاع (سابقہ فاٹا) اور اُن سے متصل علاقوں میں 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تائید مانگی گئی۔
‘سلمان اکرم راجہ کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے پر ’پی ٹی آئی ٹیم کا موقف تھا کہ خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت دہشت گردی کے لیے ہرگز کوئی برداشت نہیں رکھتی اور یہ کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں اور اسمبلی میں چند ماہ قبل صوبے کے معززین کے جرگے کی مشاورت اور سفارشات کی بنیاد پر ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے کیونکہ ایسا لا ئحہ عمل ہی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی ضمانت ہو گا۔‘تاہم اُن کے مطابق ’حکومت مشاورت اور اتفاق کا راستہ اپنانے کو تیار نہ تھی۔
‘اتوار کی شب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کل شام عمران خان اور پشتونوں کے وزیر اعلیٰ (سہیل آفریدی) نے ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں پر ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہا ہے عمران خان نے امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا اور میں نے بند کمروں کے فیصلہ سازوں کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا ہے اور انھیں بتایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے فیصلے خیبرپختونخوا میں ہی ہوں گے۔
اپوزیشن کمیٹی کے ہی ایک اور رُکن اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے کہا کہ دیگر معاملات بشمول شدت پسندی کے علاوہ ’ہمارا بنیادی مطالبہ یہی تھا کہ ہماری سیاسی قیادت کو عمران خان تک رسائی دی جائے، جس پر انھوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معاملہ اس وقت تک زیر غور نہیں ہے اور یہ معاہدے میں شامل نہیں ہو گا۔‘
مذاکرات کے ڈیڈ لاک کا شکار ہونے کے بعد حکومتی ٹیم میں شامل کئی رہنماؤں نے یہ دعویٰ کیا معاملات سلجھاؤ کی جانب جا رہے تھے مگر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی مداخلت کے باعث ڈیڈ لاک کا شکار ہوئے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کی رُکن سینیٹر شیریں رحمان کے مطابق مذاکرات اُس وقت ناکام ہوئے جب خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کے ساتھ انسدادِ شدت پسندی سے متعلق (اتوار کی) دوپہر کو متفقہ طور پر طے پانے والے مسودے پر یکطرفہ طور پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
ان کے مطابق ’مذاکراتی ٹیم کے طور پر ہم مسلسل یہ مطالبہ کرتے رہے کہ پی ٹی آئی کی وفاقی قیادت کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندے بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں، تاہم وزیراعلیٰ یا صوبائی کابینہ کے کسی نمائندے نے شرکت نہیں کی۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پشاور میں قائم صوبائی حکومت نے رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد عین اُس وقت شرائط عائد کرنا شروع کر دیں، جب تقریباً تمام حتمی معاہدوں پر اتفاق ہو چکا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب معاملات غیر ضروری پیچیدگی اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کا شکار ہو گئے۔
‘وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو لاہور میں نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وزیرِِ اعلی سہیل آفریدی ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے سب کچھ ’ویٹو‘ کر دیا۔ان کا دعویٰ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر ایک عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا اور اس معاہدے کے مجوزہ نکات میں ’پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی روک تھام، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کی مذمت، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، عبوری افغان حکومت سے رابطوں سے گریز، اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی شامل تھی۔
‘بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا وطیرہ رہا ہے کہ یہ بات چیت کے لیے آتے ضرور ہیں مگر دوہرے معیار پر مبنی اپنی پالیسیوں کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ یو ٹرن لینے کے ماہر ہیں اور اپنی کسی ایک بات پر قائم نہیں رہ سکتے۔‘مذاکرات کی ناکامی کے بعد جہاں ایک جانب تحریک انصاف نے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے تو دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پشاور پہنچ کر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں انسپیکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس سمیت دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔
مزید پڑھیں





