پی ٹی آئی دہشتگردوں کی واپسی اور آباد کاری کی خواہش مند ہے،امیر مقام

وفاقی وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان امور انجینئر امیر مقام نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن عدالتوں سے سزا یافتہ شخص کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی۔
پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئےامیر مقام نے کہ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت کو عوامی حمایت حا صل نہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر کرپشن اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزامات لگاتے ہو ئے کہا کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے اور بہت جلد جیل کے اندر ہوں گے۔
امیر مقام نے کہا کہ سہیل آفریدی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے عوامی فلاح و بہبود پر ان کی کوئی توجہ نہیں اور کرپشن کا بازار گرم ہےاسپتالوں سے لے کر اسکولوں تک صور تحال انتہائی ابتر ہے سہیل آفریدی کرپشن کی وجہ سے جیل جانے والے ہیں۔
انہوں نے صوبے کے عوام پر زور دیا کہ اپنے حقوق کے لیے صوبائی حکومت سے سوال کریں۔ بلدیاتی اداروں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی صبح و شام سیاسی معمولات میں مصروف ہیں اور صوبے کو وقت نہیں دیتے۔ اب ان کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ سہیل آفریدی اسلام آباد کے بجائے بہت جلد جیل میں ہوں گے۔
امیر مقام نے کہا کہ سہیل آفریدی کو عوامی حمایت حاصل نہیں اور عوام نے انہیں مسترد کیا ہے پی ٹی آئی نے 40 لاکھ لوگ نکالنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن عین وقت پر مارچ ہی مؤخر کردیا، 40 لاکھ تو بہت دور کی بات ہے، یہ ہزار لوگ بھی نہیں نکال سکتے اور فضول میں عام لوگوں کو تکلیف دے رہے ہیں۔ 9 مئی اور 26 نومبر کو جو ہوا، سب کے سامنے ہے اور اب بھی ایسا ہی منصوبہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن ساتھ ہی دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ عمر ان خان کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی، عمران خان سزا یافتہ ہیں، سزا عدالتوں سے ہوئی ہے اور رہائی ہمارے بس میں نہیں ہے، مذاکرات ہوں گے لیکن اس کا طریقہ کار ہے، یہ نہیں ہوتا کہ آپ کی سوئی صرف ایک قیدی پر اٹکی ہو، عمران خان کو سزا عدالتوں نے دی ہے تو رہا ئی ہم کیسے دے سکتے ہیں، رہائی عد التوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، ہمارے بس میں نہیں ہے-
امیر مقام نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دہشتگردوں کی آباد کاری میں سہولتکار رہی ہے اور اب بھی دہشتگردوں کی واپسی اور آباد کاری کی خواہش مند ہے، پی ٹی آئی کی قیادت پورے ملک میں آزاد گھوم رہی ہے، سیاسی مہم چلا رہی ہے اور انہیں دہشتگردی اور دہشتگرد حملوں کا کوئی خوف نہیں، پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کے رہنماؤں پر حملے ہوئے اور ہو رہے ہیں، لیکن حیران کن بات ہے کہ پی ٹی آئی کو ذرا بھی خوف نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی اور دہشتگردوں میں گٹھ جوڑ ہے اور اندرونی رابطے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں کوئی خوف نہیں، اور اب بھی دہشتگردوں سے مذاکرات اور آبادکاری کی باتیں کر رہی ہے، صو بے کو دہشتگردی کا سامنا ہے، عام لوگ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قربانیاں دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں





