قطر ی وزیراعظم نے نیتن یاہو کو 'جنگی مجرم' قرار دے دیا

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں غزہ میں جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
برطانوی صحافی پیرس مورگن نے ایک انٹرویو میں ان سے سوال کیا کہ کیا وہ نیتن یاہو کو جنگی مجرم سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ”بالکل، غزہ میں جو کچھ کیا گیا وہ جنگی جرائم ہیں، اور جو بھی اس کا ذمہ دار ہے وہ جنگی مجرم ہے-
اس کے ساتھ ہی انہوں نے7 اکتوبر کے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ 7 اکتوبر ایک قتلِ عام تھا اور جس نے بھی یہ کیا اسے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
https://x.com/PiersUncensored/status/2104950577822048460?s=20
قطری وزیراعظم نے امریکی یونیورسٹیوں کو فنڈز دینے کے اسرائیلی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نیتن یاہو پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا،انہوں نے بتایا کہ قطر کی امداد امریکی حکومت کی درخواست پر اور امریکا، اسرائیل اور اقوامِ متحدہ کی مکمل نگرانی کے تحت فراہم کی جاتی تھی۔
https://x.com/PiersUncensored/status/2104992603595022489?s=20
ان کے مطابق 3 کروڑ ڈالر ماہانہ کی رقم میں سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا ایندھن اسرائیل سے خریدا جاتا تھا تاکہ غزہ کے بجلی گھر چل سکیں، جبکہ باقی رقم غریب خاندانوں اور سول ملازمین کو دی جاتی تھی جس کی منظوری اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسیاں دیتی تھیں۔7 اکتوبر کے فوراً بعد حماس نے عارضی جنگ بندی کے بدلے تمام عام شہریوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن اسرائیل نے اسے رد کر دیا تھا۔
ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے بتایا کہ فوجی کارروائی سے محض کچھ منٹ پہلے وائٹ ہاؤس سے آنے والی ایک کال کے ذریعے انہیں جگا کر آگاہ کیا گیا تھا، امریکا ہمارا بنیادی دفاعی اور معاشی شراکت دار ہے، تاہم ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور رہے گا۔
انہوں نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے تین بنیادی نکات تجویز کیے، جن میں ایران کے جوہری معاملے کا پرامن حل، آبنائے ہرمز کی بحالی، اور خلیجی ممالک و ایران کے درمیان نئے سیکیورٹی معاہدے شامل ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ بند کمرے کی سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں بارآور ثابت ہوں گی۔




