منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سپریم کورٹ نےآئی بی ملازم کی محکمانہ سزا برقرار رکھتےہوئے اپیل خارج کردی


سپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد اور اسے آگ لگانے کے الزام کا سامنا کرنے والے انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے باورچی جواد عباسی کی اپیل خارج کرتے ہوئے ان کی جبری ریٹائرمنٹ کا محکمانہ فیصلہ برقرار رکھا ہے۔


جسٹس شاہد وحید کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ کسی فوجداری مقدمے میں ملز م کی بریت محکمانہ کارروائی سے بریت کے لیے کافی نہیں ہوتی, سرکاری ملازم کا کردار صرف دفتری فرائض تک محدود نہیں بلکہ اس کی نجی زندگی بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آسکتی ہے۔


سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ گھر کی چار دیواری میں خواتین پر تشدد کو نجی معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا, خواتین کی عزت و وقار کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کی حیثیت سے ہر رشتہ احترام کا مستحق ہے۔


فیصلے کے مطابق خواتین پر تشدد میں ملوث سرکاری ملازم نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے عمل سے متعلقہ ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے,دفتر سے باہر سرزد ہونے والا جرم بھی سرکاری ملازمت پر اثرانداز ہوسکتا ہے، کیونکہ سرکاری ملازم سے نجی زندگی میں بھی ذمہ دارانہ کردار کی توقع کی جاتی ہے۔


عدالتی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ جواد عباسی نے 2022 میں اپنی بیوی پر تشدد کرتے ہوئے اسے آگ لگائی اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کی،ا س واقعے سے متعلق محکمانہ انکوائری کے دوران 13 گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے تھے۔


سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خواتین کے خلاف تشدد جیسے واقعات کو محض گھریلو یا نجی معاملہ سمجھنا درست نہیں،عدالت نے آئی بی ملازم کی محکمانہ سزا برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔