اتوار، 1 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

طالبان افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے روکنے میں ناکام رہے، امریکی وزیر خارجہ

usa

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشتگردانہ حملوں پرکہا ہے کہ امریکا پاکستان میں کسی بھی قسم کی دہشتگردی نہیں دیکھنا چاہتا۔


گزشتہ روز اٹلا نٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہے، جس کے جواب میں پاکستان کو خود کارروائی کرنا پڑی ہے۔


امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا ’پاکستان افغان سرزمین سے کیے جانے والے دہشتگردانہ حملوں پر انتہائی فکر مند ہےطالبان ان حملوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے، اسی لیے پاکستان نے اس کے خلاف جواب میں اقدامات کیے ہیں ہم نے یقینی طور پر اس معاملے پر پاکستان کے تحفظات سنے ہیں اور ہم ظاہر ہے یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جائے۔


مارکو روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اپنے نکتہ نظر کو دوبارہ سختی سے دہرایا ہے۔


ہفتے کے روز پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو یکسر مسترد کر دیا۔وزارت اطلاعات نے طالبان قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکام اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے ملبہ اسلام آباد پر ڈال رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والی بنیادی وجہ یعنی افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشتگردی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔


پاکستان کی وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف جنم لینے والے خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام ضروری اور مناسب اقدامات کا پورا حق حاصل ہے۔


بیان میں واضح کیا گیا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے مسئلے کو حل کرنے سے مسلسل انکار ہی دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی استواری میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی سلامتی کو طالبان حکومت کی ’عدم کارروائی، لیت و لعل اور غلط ترجیحات‘ کا یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔