بدھ، 4 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایران جنگ کے اثرات نے نقصان پہنچایا, مڈ ٹرم نتائج پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ناکامی کے پیچھے ایران جنگ کے اثرات کا اعتراف کر لیا ہے-


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی کارکردگی کو متاثر کیا۔ تاہم، ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ووٹرز نے ایران کے معاملے پر ان کے فیصلوں اور اقدامات کی حمایت کی ہے،میرے خیال میں نتائج پر ایک حد تک ایران کے حالات کا اثر ضرور پڑا، لیکن اس کے ساتھ ہی عوام نے اس بات کی اہمیت کو بھی سمجھا جو میں نے ایران کے معاملے میں انجام دیا ہے-


ٹرمپ نے آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ان کے پاس ایسے قانون سازی کے مسودے بھیجیں گے جنہیں وہ ’احمقانہ اور غیر معقول‘ سمجھتے ہیں، اور وہ بلا جھجک ان تمام بلوں کو ویٹو کر دیں گے،کچھ ماہ تک جب ان کے قوانین ویٹو ہوتے رہیں گے،تو وہ خود فون کریں گے اور پوچھیں گے کہ ‘ہم کام کو آگے کیسے بڑھائیں؟’ اور پھر ہم مل کر کام کریں گے-


 انٹرویو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان انتخابی نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا ’جی ہاں، بالکل، آخر آپ اسے تسلیم کیوں نہیں کریں گے؟انہوں نے اپنی روایت کے برعکس سیاسی حریفوں کو سراہتے ہوئے کہا ’ڈیموکریٹس کو مبارکباد، انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس پچھلے 11 سالوں سے اس قسم کی کامیابی کے منتظر تھے، انہوں نے کہ ’میں ان نتائج کو ہرگز اپنے خلاف کوئی حملہ یا ذاتی ناکامی تصور نہیں کرتا۔


قبل ازیں اہم انتخابی حلقوں کی نشستیں ہاتھ سے نکلنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی ناکامی کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا-


منگل کی رات دیر گئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری کردہ ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کا نام بیلٹ پیپر پر ہوتا تو ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنا اکثریتی کنٹرول نہ صرف آسانی سے برقرار رکھتی بلکہ ایک شاندار اور تاریخی فتح حاصل کر تی۔


امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں اہم اور فیصلہ کن انتخابی معرکوں کے دوران خود صدر ٹرمپ کے نامزد اور پسندیدہ امیدواروں کو پے در پے ناکامی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔