پوری قوم کو متحد ہو کردہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہوگا،بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور پوری قوم کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار نہیں تھے، اگر وہ دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو پاکستان پیپلز پارٹی یہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے بات چیت کے لیے آگے آنا چاہیے اپو ز یشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی گئی ہے تاکہ جمہوری نظام اور انتخابی عمل میں بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسی سے بخوبی آگاہ ہیں نئے صوبوں کا قیام متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں، جبکہ اس عمل کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط بھی ضروری ہیں۔
بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ جہاں نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے موجود ہے، وہاں صوبے کیوں نہیں بنائے جا رہے؟ گلگت بلتستان میں اس حوالے سے اتفاق رائے موجود ہے، اس کے باوجود وہاں صوبے کے قیام کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کو واپس آنے کی دعوت دی گئی اور انہیں سوات، ملاکنڈ اور سابق قبائلی علاقوں میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی گئی پاکستان کی جیلوں میں قید دہشت گردوں کو بھی رہا کیا گیا اور آج ملک ماضی میں کیے گئے انہی غلط فیصلوں کے نتائج بھگت رہا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گرد ایک مرتبہ پھر سوات میں پاکستان کا قومی پرچم اتارنا چاہتے ہیں، تاہم انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی خیبر سے خضدار تک ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ دہشت گرد پاکستان کی بہادر مسلح افواج، پولیس افسران اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں-
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صوبے کے وزیراعلیٰ نے دہشت گردوں کا مقابلہ نہ کرنے کا اعلان کیا تھااگر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں تو پاکستان پیپلز پارٹی یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
ان کے مطابق یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق وفاقی حکومت کے فیصلے کا ساتھ دیا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔ ملک میں انتشار کو ہوا دینے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور پاک سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کو سنجیدگی سے نہ لینے کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں دہشت گردی کے واقعات کے بعد جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد ضائع ہونے کی صورت میں مقدمات کی مؤثر پیروی مشکل ہو جاتی ہے، جس سے دہشت گردوں کے خلاف قانونی کارروائی متاثر ہوتی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے نیا قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے اپوزیشن کو بھی مشترکہ جدوجہد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے اگر اپوزیشن خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی کا خاتمہ چا ہتی ہے تو اسے مذاکرات کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جا سکے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی دعوت بھی دی گئی ہے,انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے جمہوری نظام اور انتخابی عمل میں بہتری کے لیے سنجیدہ کوششیں ضروری ہیں تاکہ جمہوری اداروں کو مضبوط بنایا جا سکے اور ملک کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔




