بی ایل اے کے حامی قوم پرست حکیم لہڑی کے جنازے میں حکومتی عہدیداروں کی شرکت نے اہم سوالات کھڑے کر دیے

نام نہاد بلوچ قوم پرست حکیم لہڑی کی میت کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفن کیے جانے اور ان کی تدفین میں نامور سیاسی شخصیات کی شرکت نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔
جنازے میں نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل اور نواب ثنااللہ زہری جیسی سرکردہ سیاسی شخصیات کی شرکت نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
عمر بھر کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کے حامی رہنے والے نام نہاد قوم پرست رہنما حکیم لہڑی کی بی ایل اے کا پرچم میں تدفین کے باوجود نواب ثنا اللہ زہری کے فرزند جو مشیر بلدیات ہیں اور ایم این اے صاحبزادی نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرکے سب کو حیران کردیا۔
موصولہ معلومات کے مطابق نواب ثنا اللہ زہری کے فرزند، جو کہ مقامی حکومت (لوکل گورنمنٹ) کے مشیر کے منصب پر فائز ہیں اور ان کی صاحبزادی، جو کہ رکن قومی اسمبلی (ایم این اے )ہیں، دونوں نے باقاعدہ طور پر ڈاکٹر حکیم لہری کے اہل خانہ کے پاس جا کر تعزیت کی ہے۔
ایک متنازع شخصیت جس نے بلوچوں کا خون بہانے والی کالعدم تنظیم بی ایل اے کا زندگی بھر ساتھ دیا، اس کے جنازے میں حکومتی عہدیداروں کی شرکت نے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں،مرحوم حکیم لہڑی اپنی پوری زندگی میں ایک کالعدم دہشتگرد گروہ کے حامی رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکیم لہڑی کھلے عام دہشتگرد تنظیموں اور ان کی کارروائیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، جن میں کراچی یونیورسٹی حملے کی خودکش حملہ آور شاری بلوچ کی تعریف کا واقعہ بھی شامل ہےایسے شخص کی تدفین پر جہاں بی ایل اے کا جھنڈا استعمال ہوا، وہاں بلوچ حقوق کے علمبردار کہلانے والے ان رہنماؤں کی شرکت اور اس پر مجرمانہ خاموشی نے ان کے اصولی مؤقف پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ بعض سردار اور ان کے اہلِ خانہ ایک طرف تو حکومتی عہدوں، پروٹوکول، فنڈز اور تمام ریاستی مراعات و سہولیات سے بھرپور طریقے سے مستفید ہوتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کی دہشتگرد تنظیموں کے حامیوں کے ساتھ قربت اور گٹھ جوڑ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
عوام بجا طور پر یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں ریاستی وسائل کا مزہ لینا اور دوسری طرف ریاست مخالف عناصر کی پشت پناہی کرنا کس اصول کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ زہری خاندان پر ماضی میں عاصمہ جتک کے قتل جیسے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ایسے سنگین اور حساس نوعیت کے الزامات کے تناظر میں اس خاندان کے سیاسی کردار اور طرزِ عمل پر گہرے سوالات اٹھتے ہیں، خصوصاً جب بااثر شخصیات اقتدار کے ایوانوں اور حکومتی مراعات سے بھی جڑی رہیں۔
ماہرین اور باشعور طبقے کا ماننا ہے کہ بلوچ شناخت اور ثقافت کسی بھی دہشتگرد تنظیم کی جاگیر یا پروپیگنڈا ٹول نہیں بن سکتی۔ بلوچ عوام کے حقیقی حقوق کی نمائندگی کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ دہشتگردی کی ہر شکل کی بلا خوف و خطر اور واضح مذمت کی جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی شخصیات اپنے اس دوہرے معیار اور طرزِ عمل پر براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔
مزید پڑھیں



