Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دھرنوں سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے،محمد اورنگزیب

muhammad-aurangzeb-1

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہڑتالوں، دھرنوں، سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے-


محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے مشکل فیصلوں اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک نے ایک اہم سفر طے کیا ہے اور اب معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم احتجاج، دھرنوں اور کارو با ری سرگرمیوں کی بندش سے اس پیشرفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ پلاننگ کمیشن کے اکنامک ونگ کے ساتھ مل کر ماضی کے تجربات اور موجودہ معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے معا شی سرگرمیوں میں تعطل کے اثرات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے مطابق مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر تقریباً 120 ارب روپے یومیہ نقصان کا اندیشہ ہے، سب سے زیادہ نقصان خدمات کے شعبے میں ہوگا، جس میں مالیاتی خدمات، مواصلات، ٹرانسپورٹ، ریٹیل و ہول سیل او ر ہوٹلنگ سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔ اس شعبے میں یومیہ تقریباً 86 ارب روپے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے تقریباً 25 ارب روپے روزانہ نقصان ہوسکتا ہے، جس میں تعمیرات، تیا ر مصنوعات، خام مال اور سپلائی چین سے متعلق سرگرمیاں شامل ہیں، جبکہ زرعی شعبے میں ٹرانسپورٹیشن، جلد خراب ہونے والی اشیا، ڈیر ی سپلائی چین اور زرعی پیداوار سے متعلق سرگرمیوں کو ملا کر تقریباً 9 ارب روپے یومیہ نقصان کا خدشہ ہے۔


محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں تعطل کا براہ راست اثر ٹیکس وصولیوں پر بھی پڑے گا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس ریونیو میں گزشتہ 2 سال کے دوران تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم معاشی سرگرمیاں رکنے کی صورت میں تقریباً 17 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا تخمینہ ہے۔


انہوں نے کہا کہ حکومت کی اصل توجہ اب معاشی استحکام سے مجموعی قومی پیداوار کی پائیدار ترقی کی طرف بڑھنے پر ہے، جبکہ رواں مالی سال اشیا کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 6 فیصد اضافے کی توقع ہےماضی میں ہڑتالوں اور معاشی سرگرمیوں میں تعطل کے اثرات سامنے آچکے ہیں اور بعض مواقع پر معمول کی صورتحال بحال ہونے میں کئی ہفتے لگے ایسی صورتحال میں روزانہ کی برآمدی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ مجموعی ترقی کی راہ بھی متاثر ہوتی ہے۔


انہوں نے خلیج کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستانی برآمد کنندگان اور کاروباری افراد پہلے ہی مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں ملک کے اندر مزید ہڑتالیں یا سڑکوں کی بندش برآمدات اور معاشی ترقی کے لیے اضافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔


محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ٹی سروسز کی برآمدات کو بھی آگے بڑھایا جارہا ہے اور گزشتہ جولائی او ر اگست میں آئی ٹی برآمدات تقریباً 811 ملین ڈالر رہیں انہوں نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کے نتیجے میں انٹر نیٹ اور رابطوں سمیت کاروباری سرگرمیوں میں تعطل پیدا ہوا تو آئی ٹی ایکسپورٹس بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔


وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی تعطل کا سب سے فوری بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے، خصوصاً دیہاڑی دار مزدور، یومیہ اجرت پر کام کر نے والے افراد، چھوٹے دکاندار اور چھوٹے کاروبار اس سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں,مشکل فیصلوں کے بعد ملکی معیشت طویل عرصے کے بعد دوبارہ استحکام کی طرف آئی ہے اور اب اسے برآمدات، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کی جانب لے جانا ہے۔


انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی طرف یہ سفر حکومت یا کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کوشش ہونی چاہیے کہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں جن سے معاشی سرگرمیاں متاثر اور عام آدمی کا روزگار متاثر ہو۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL