ایم کیو ایم ریلی، جاگیردارانہ نہیں شراکتی عوامی جمہوریت چاہتے ہیں: خالد مقبول صدیقی

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے مطالبے کے حق میں کراچی میں عوامی ریلی نکالی گئی، جس میں پارٹی کارکنوں، خواتین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کا آغاز عائشہ منزل، شاہراہِ پاکستان سے ہوا، جس کے شرکا کریم آباد، لیاقت آباد، تین ہٹی اور گرومندر سے ہوتے ہوئے نمائش چورنگی پہنچے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے گزشتہ دنوں بھی ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔
نمائش چورنگی پر ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک میں جاگیردارانہ جمہوریت کے بجائے شراکتی عوامی جمہوریت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس کے ثمرات عام شہری کی دہلیز تک پہنچیں اور اختیارات گلی محلوں تک منتقل کیے جائیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج پورے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات ہو رہی ہے، اس لیے ملک میں نئے یونٹس انتظامی بنیادوں پر بنائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ، کسانوں اور مزدوروں کو مضبوط بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں نے آج تاریخ رقم کردی ہے اور پاکستان جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا، ریلی بھی اسی مقصد کے لیے نکالی گئی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک میں 3 کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اس لیے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں چند خاندانوں کی اجارہ داری کے خاتمے کا آغاز ہوگیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کا اگلا میئر کراچی کا بیٹا اور ایم کیو ایم پاکستان کا ہوگا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے 25 کروڑ اور سندھ کے ساڑھے 7 کروڑ عوام کی شراکت داری کا دور شروع ہوچکا ہے۔
فاروق ستار نے ریلی کے شرکا سے سوال کیا کہ اگلی ریلی شارعِ فیصل پر ہونی چاہیے یا شاہراہِ بھٹو پر؟ ریلی کے اختتام پر پارٹی رہنماؤں نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں





