Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگنے کے لیے اب کوئی گنجائش باقی نہیں بچی،محسن نقوی

Naqvi challenges PTI to provide list of its 25 'slain' workers | Baaghi TV

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگنے کے لیے اب کوئی گنجائش باقی نہیں بچی، آپ بتائیں کہ یہ معاملہ کس طرح ٹل سکتا ہے۔


اسلام آباد میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں کہ میں نے اس معاملے سے بچنے کے لیے کس حد تک کوشش کی ہے۔


واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا ہے، اور حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح بلا لیا گیا ہے۔


صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا نے شرکت کی۔


ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے توثیق حاصل کرنے کے لیے اجلاس طلب کیے گئے ہیں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔


اس سلسلے میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات بھی ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے وزیراعظم کی معاونت کی۔


ملاقات کے دوران صدر مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس منگل 13 اکتوبر کو بلائے جائیں گے۔


دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی بھی ملاقات ہوئی ہے، جس میں اہم قومی و سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔


قبل ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ گورنر راج پورے صوبے میں لگے گا، اور ایمر جنسی شاید کچھ اضلاع میں لگے، پی ٹی آئی سے اب مزید کسی بات چیت کا امکان نہیں اگر سہیل آفریدی نے کوئی غیرقانونی کام کیا تو وہ کو

ئی اتنا بڑا آدمی نہیں، سب گرفتار ہو سکتے ہیں۔ اس وقت پی ٹی آئی کے اراکین روپوش ہیں یا فرمائشی گرفتاریاں دے رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ  صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ بلاتا ہے کیا یہ بھی ہم ان کو بتائیں گے، اگر وزیراعلیٰ اپنے لوگوں کا تحفظ نہیں کر سکتا تو استعفیٰ دے دے اب ہمیں سرجری کی طرف جانا ہوگا، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد انٹیلی جنس بیسڈ بنیادوں پر آپریشنز ہوں گے۔


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ گھروں سے لوگوں کی بے دخلی ہوگی یا نہیں یہ فیصلے تو بعد میں ہوں گے،اگر پی ٹی آئی والے گورنر ہاؤس کے قریب آئیں گے تو ان کو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ ان کی نسلیں یاد رکھیں گی۔


واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کررہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کسی کو بھی وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔