بعض نگاہیں محض دیکھتی نہیں، وجود کے ان نہاں خانوں کی چوکھٹ کھول دیتی ہیں جہاں انسان خود بھی کبھی جھانکنے کی جسارت نہیں کرتا۔ زِمل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔
وہ ایک عام سا دن تھا۔ سڑک پر معمول کی چہل پہل تھی۔ گاڑیاں اپنی رفتار سے گزر رہی تھیں، فٹ پاتھ پر لوگ اپنے اپنے خیالوں میں مصروف تھے اور دکانوں سے آتی آوازیں اردگرد کے شور میں گھلی ہوئی تھیں۔ زِمل بھی اسی ہجوم کا حصہ بنی اپنے راستے پر جا رہی تھی کہ اچانک نہ جانے کس احساس نے اسے پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کیا۔
اس نے گردن گھمائی تو سامنے عمار کھڑا تھا۔
صرف ایک نگاہ کا فاصلہ تھا۔
مگر وہ ایک نگاہ جیسے وقت کے کسی نامعلوم صحیفے پر لکھی ہوئی تحریر تھی۔
عمار کی آنکھوں سے ملنے والی وہ نظر زِمل کے اندر کہیں اتر گئی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی اجنبی نے اس کے وجود کی وہ زبان پڑھ لی ہو جسے وہ خود بھی نہیں سمجھتی تھی۔ نہ کوئی وعدہ ہوا، نہ محبت کا اقرار، نہ تعلق کی کوئی بنیاد رکھی گئی، مگر بعض تعلقات بنیاد کے محتاج نہیں ہوتے؛ وہ اچانک دل کے کسی غیر مرئی گوشے میں جنم لیتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ پوری ذات کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔
عمار سے اس کی شناسائی پہلے سے تھی، مگر اس ایک لمحے کے بعد شناسائی کا مفہوم بدل گیا۔
کبھی یونیورسٹی میں اچانک آمنا سامنا ہو جاتا تو عمار چند لمحوں کے لیے رک جاتا۔
"آج اتنی خاموش کیوں ہو؟"
وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھتا۔
زِمل نظریں چرا کر کہتی، "بس، ایسے ہی۔"
"ایسے ہی تو کچھ نہیں ہوتا۔ خیریت ہے؟"
وہ بات بدلنے کی کوشش کرتی، مگر عمار اس کے چہرے سے اس کی کیفیت پڑھنے کی کوشش کرتا رہتا۔
کبھی دونوں کسی راہ داری میں کھڑے چند منٹ بات کر لیتے، کبھی گھر سے فون آ جاتا تو عمار اپنی مصروفیت کے باوجود بات سننے کے لیے وقت نکال لیتا۔ کبھی فون پر گفتگو چند منٹوں سے شروع ہوتی اور پتا ہی نہ چلتا کہ وقت کہاں گزر گیا۔
"تم نے کھانا کھایا؟"
"ہاں۔"
"سچ؟"
"ہاں بھئی!"
"اچھا، پھر یہ بتاؤ آج اتنی پریشان کیوں لگ رہی تھیں؟"
زِمل خاموش ہو جاتی۔
عمار کے لیے شاید یہ معمولی سوال تھا، مگر زِمل کے لیے کسی کی توجہ کا یہ انداز معمولی نہیں تھا۔
وہ عمار سے محبت مانگنے والوں میں سے نہیں تھی۔
سچ تو یہ تھا کہ زِمل نے کبھی عمار سے محبت مانگی ہی نہیں تھی۔ نہ کسی وعدے کا تقاضا کیا، نہ تعلق کو کوئی نام دینے کی ضد کی، نہ اپنے لیے کوئی حق مانگا۔ اسے جسمانی قربت سے زیادہ ذہنی ہم آہنگی عزیز تھی۔ عمار کا اس کی بات سمجھ لینا، اس کی خاموشی محسوس کر لینا، اس کے پریشان ہونے پر حال پوچھ لینا—یہ سب اس کے لیے کسی قیمتی متاع سے کم نہ تھا۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں کے درمیان ایک ایسا تعلق بنتا گیا جسے نام دینا آسان نہ تھا۔
عمار کی زندگی میں ایک مشکل دور آیا تو زِمل اس کے ساتھ کھڑی رہی۔ اس کے دکھ کو اپنے دل پر رکھ کر سہتی رہی۔ عمار کی ماں سے بھی اس کا ایسا تعلق قائم ہو گیا جیسے وہ برسوں سے اس گھر کا حصہ ہو۔
وہ ان کی خبر رکھتی، ضرورت کے وقت ان کے کام آتی، کبھی ان کے ساتھ سفر کرتی اور کبھی ان کے پاس بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتی۔ عمار کی ماں کے چہرے پر زِمل کے لیے محبت اور اطمینان دیکھ کر اس کے دل میں بھی ایک عجیب سی طمانیت اترتی۔
اسے شاید اندازہ ہی نہیں تھا کہ جس تعلق کو وہ خلوص سمجھ کر نبھا رہی ہے، وہ آہستہ آہستہ اس کے وجود کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
پھر ایک وقت آیا جب عمار کے رویے میں تبدیلی آنے لگی۔
پہلے فون پر باتیں طویل ہوتیں، اب مختصر ہو گئیں۔ پہلے اس کے پیغام کا جواب جلد آ جاتا تھا، اب کبھی پورا دن گزر جاتا۔ یونیورسٹی میں ملاقات ہوتی تو عمار جلدی میں دکھائی دیتا۔
زِمل نے ابتدا میں اسے مصروفیت سمجھا۔
پھر حالات۔
پھر مجبوری۔
مگر دل بعض حقیقتوں کو الفاظ سے پہلے سمجھ لیتا ہے۔
ایک دن وہ فون ہاتھ میں لیے کافی دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ اسکرین پر کوئی نیا پیغام نہیں تھا۔ اس نے فون ایک طرف رکھا، پھر چند لمحوں بعد دوبارہ اٹھا لیا۔
خاموشی ویسی ہی تھی۔
اس نے خود کو سمجھایا:
"شاید مصروف ہوگا۔"
مگر دل جانتا تھا کہ بات صرف مصروفیت کی نہیں۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید جس چوکھٹ پر وہ اپنائیت کا احساس لیے کھڑی رہی، وہ چوکھٹ کبھی اس کے لیے کھولی ہی نہیں گئی تھی۔
اس نے شکوہ نہیں کیا۔
نہ کوئی سوال کیا، نہ عمار سے اپنے حصے کی محبت کا حساب مانگا۔
بس ایک رات سجدے میں جا کر بہت آہستہ سے دعا کی:
"یا اللہ! اگر یہ شخص میرے حق میں نہیں تو اس کا خیال میرے دل سے نکال دے۔"
مگر عجیب بات تھی۔
جتنا وہ عمار کو بھولنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی اس کا خیال کسی گہری تہہ میں اترتا جاتا۔
وہ خود کو مصروف رکھتی، کتابیں پڑھتی، گھر کے کاموں میں لگتی، عبادت میں دل لگانے کی کوشش کرتی، مگر تنہائی کے کسی لمحے میں عمار کی آواز، اس کا اندازِ گفتگو، اس کے پوچھے ہوئے معمولی سے سوال سب واپس آ جاتے۔
زِمل سمجھ گئی تھی کہ اپنے دل سے کسی کو حکم دے کر نکالا نہیں جا سکتا۔
تب اس نے اپنے دل کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔
قرآن کی آیات اس کے لیے محض تلاوت نہ رہیں، وہ اس کے اندر بکھرے ہوئے حروف کو ترتیب دینے لگیں۔ سجدے طویل ہوتے گئے اور دعائیں مختصر۔
پھر ایک دن اس نے اپنے رب کے گھر کی طرف سفر کا ارادہ کیا۔
وہ کعبے کی طرف صرف سفر نہیں کر رہی تھی، اپنے اندر اٹھتے ہوئے اس شور سے نجات حاصل کرنے جا رہی تھی جس نے اسے تھکا دیا تھا۔ وہ اس محبت کے بوجھ کو اپنے دل سے اتار کر اللہ کے سپرد کرنا چاہتی تھی جسے وہ اپنی کوششوں کے باوجود بھلا نہیں پا رہی تھی۔
وہ چاہتی تھی کہ کعبے کو دیکھ کر اس کے دل میں عمار سے بڑا کوئی نام اترے۔
وہ چاہتی تھی کہ اس کے اندر کا وہ درد، جسے وہ کسی انسان کے سامنے پوری طرح بیان نہیں کر سکتی تھی، اپنے رب کے سامنے بےلفظ دعا بن جائے۔
جب وہ کعبے کے سامنے پہنچی تو کچھ دیر کے لیے جیسے وقت ٹھہر گیا۔
اس کی نگاہ سامنے تھی اور آنکھوں میں برسوں کی دعائیں، بےشمار سوال اور ایک ایسا درد تھا جسے وہ خود بھی پوری طرح لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی تھی۔
اس نے کعبے کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
اس لمحے عمار کا چہرہ بھی اس کے ذہن میں آیا، مگر اس کے ساتھ وہ بےقراری نہیں تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔
زِمل نے دل ہی دل میں کہا:
"یا اللہ! جس دل کو میں اپنے اختیار سے نہیں سمجھا سکی، آج اسے تیرے سپرد کرتی ہوں۔ اگر یہ محبت میرے لیے نہیں تو اس کی گرفت میرے دل سے کھول دے۔ اور اگر اس میں میرے لیے کوئی سبق ہے تو مجھے اسے سمجھنے کی توفیق دے۔"
وہ طواف میں چلتی رہی۔
ہر چکر کے ساتھ اسے محسوس ہونے لگا جیسے وہ کسی انسان سے دور اور اپنے رب کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔ جس نام کو دل سے نکالنے آئی تھی، وہ نام اب بھی کہیں موجود تھا، مگر اس کے ساتھ جڑی بےقراری پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔
گھر پہنچی تو اس کے دل کی کیفیت اور بدل چکی تھی۔
اب وہ عمار کو بھولنے کی دعا نہیں کرتی تھی۔
وہ صرف یہ کہتی:
"یا اللہ! میرے دل کو اپنی رضا پر راضی کر دے۔"
زِمل نے جان لیا تھا کہ بعض درد انسان سے چھینے نہیں جاتے، انہیں اللہ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر وہی درد آہستہ آہستہ دعا بننے لگتا ہے۔
ادھر عمار کی زندگی بھی ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی تھی۔
اس کے گھر والوں نے اس کی شادی اس کی ماموں زاد سے کر دی زندگی نے اسے ایک ایسے بندھن میں باندھ دیا تھا جس سے نکلنا نہ آسان تھا، نہ درست۔ اب وہ زِمل کو اپنا نہیں سکتا تھا۔
مگر شاید پہلی بار اسے اپنے اندر کی ایک حقیقت صاف دکھائی دی۔
اس نے زِمل کے ساتھ غلط کیا تھا۔
وہ رات دیر تک جاگتا رہا۔ اسے وہ دن یاد آنے لگے جب زِمل نے اس کے لیے اپنے وقت، سکون اور جذبات تک کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ اسے اپنی ماں کے ساتھ زِمل کا خلوص یاد آیا۔ وہ لمحے یاد آئے جب زِمل نے کچھ مانگے بغیر اس کا ساتھ دیا تھا۔
اور پہلی بار عمار کے دل میں یہ خیال پوری شدت سے اترا:
"میں نے اس محبت کو سمجھا ہی کب تھا؟"
اس کے بعد عمار بھی بدلنے لگا۔
وہ مسجد جانے لگا۔ قرآن کھول کر دیر تک بیٹھا رہتا۔ سجدے میں اس کی زبان پر اپنے لیے کوئی عذر نہ ہوتا، صرف ایک اعتراف:
"یا اللہ، میں نے ایک دل کے ساتھ ناانصافی کی۔ مجھے معاف کر دے۔"
وہ زِمل کو حاصل کرنے کے لیے نہیں، اپنے کیے کو سمجھنے کے لیے اللہ کے قریب ہو رہا تھا۔
پھر ایک رات عمار نے خواب دیکھا۔
زِمل اس کے سامنے کھڑی تھی۔
نہ چہرے پر شکوہ تھا، نہ آنکھوں میں غصہ۔
صرف ایک سوال تھا۔
وہ چند قدم آگے بڑھی اور بہت آہستہ بولی:
"تم نے ایسا کیوں کیا؟"
عمار کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
اس نے لب کھولے، مگر آواز جیسے کہیں اندر ہی دفن ہو گئی۔
زِمل نے دوبارہ پوچھا:
"جب تم جانتے تھے کہ میں تمہیں سچائی سے چاہتی ہوں، جب تم جانتے تھے کہ میں نے تم سے کچھ مانگا نہیں، تو پھر تم نے میرے دل کو اتنی آسانی سے کیوں توڑ دیا؟"
عمار کی آنکھوں میں پہلی بار وہ پچھتاوا تھا جس سے آدمی دوسروں سے نہیں، خود سے نظریں چراتا ہے۔
وہ صرف اتنا کہہ سکا:
"میں غلط تھا۔"
زِمل نے اسے دیکھا۔
"اب؟"
عمار کے پاس اس ایک لفظ کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔
کیونکہ اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
وہ ایک بندھن میں بند چکا تھا۔ زِمل اپنی راہ پر نکل چکی تھی۔ دونوں کے درمیان زندگی کے فیصلوں کی ایک ایسی دیوار کھڑی ہو چکی تھی جسے محبت بھی عبور نہیں کر سکتی تھی۔
خواب ٹوٹ گیا۔
عمار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
کمرے میں خاموشی تھی۔
مگر اس کے اندر جیسے کوئی چوکھٹ ہمیشہ کے لیے کھل گئی تھی۔
اس رات کے بعد زِمل اس کی زندگی میں واپس نہیں آئی، مگر اس کا احساس اس کے اندر ایک عجیب روحانی تعلق کی صورت میں باقی رہا۔ ایسا تعلق جس میں وصال کی خواہش آہستہ آہستہ فنا ہو گئی اور اعترافِ خطا باقی رہ گیا۔
ادھر زِمل بھی سمجھ چکی تھی کہ ہر محبت کا مقصد انسان کو محبوب تک پہنچانا نہیں ہوتا۔
کچھ محبتیں انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہیں جہاں وہ اپنے دل کی شکست سے گزر کر اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے۔
شاید زِمل اور عمار کا تعلق بھی اسی نامعلوم راستے کا ایک باب تھا۔
دو لوگ جو ایک دوسرے سے محبت کر بیٹھے، مگر ایک دوسرے کے نہ ہو سکے۔
دو لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کو کھو کر اپنے اندر کچھ پا لیا۔
اور ایک ایسا سوال، جس کا جواب شاید قیامت تک کسی کے پاس نہ ہو—
اگر دو دل ایک دوسرے کی محبت کو سچ مان لیں، مگر تقدیر انہیں ایک ہونے کی اجازت نہ دے، تو کیا وہ محبت ناکام کہلائے گی… یا کبھی کبھی کسی انسان سے محبت کا آخری مفہوم یہی ہوتا ہے کہ وہ انسان کو اپنے رب تک پہنچا دے؟
مزید پڑھیں






