برطانیہ: خواجہ سرا مریضوں کو پیدائشی جنس کے مطابق اسپتال وارڈز میں رکھنے کا فیصلہ

لندن: برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) انگلینڈ نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ خواجہ سرا مریضوں کو ان کی صنفی شناخت کے بجائے پیدائشی جنس کی بنیاد پر اسپتال کے وارڈز میں رکھا جائے گا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق جمعرات کو جاری کی گئی نئی ہدایات کے تحت خواجہ سرا خواتین کو خواتین کے وارڈز اور خواجہ سرا مردوں کو مردوں کے وارڈز میں رکھنے کے بجائے ان کی حیاتیاتی جنس کے مطابق رہائش فراہم کی جائے گی۔ تاہم، اگر طبی وجوہات کی بنا پر ایسا کرنا مناسب نہ ہو تو متبادل انتظامات کیے جا سکیں گے۔ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام مریضوں کے ساتھ احترام، وقار، ہمدردی اور نگہداشت کا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔ صنفی شناخت تبدیل کرنے والے افراد کو ان کی حیاتیاتی جنس کے مطابق رہائش فراہم کی جائے، جبکہ طبی ضروریات اور یکساں جنس کے وارڈز میں رہائش کے تقاضوں میں تضاد کی صورت میں طبی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔
نئی ہدایات کا اطلاق این ایچ ایس کے عمومی اسپتالوں، ذہنی صحت کے اداروں اور کمیونٹی ہیلتھ ٹرسٹس کے علاوہ نجی اداروں میں این ایچ ایس کی مالی معاونت سے علاج کروانے والے مریضوں پر بھی ہوگا۔ تاہم، حادثات و ایمرجنسی کے شعبوں، فوری طبی امداد کے مراکز اور بچوں کے شعبوں کو ان ہدایات سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔این ایچ ایس کے عملے کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اسپتالوں اور جی پی سرجریز میں مردوں اور خواتین کے لیے مخصوص بیت الخلا اور کپڑے تبدیل کرنے کی جگہیں حیاتیاتی جنس کے مطابق استعمال کی جائیں۔ جہاں ممکن ہو، مریضوں اور عملے کی رازداری اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے الگ، بند اور قابلِ تالا کمرے یا دیگر متبادل سہولتیں فراہم کرنے پر غور کیا جائے۔
یہ فیصلہ برطانیہ میں یکساں جنس کے لیے مخصوص مقامات سے متعلق نئی ہدایات کے نفاذ اور سپریم کورٹ کے حیاتیاتی جنس کی تعریف سے متعلق فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ این ایچ ایس ٹرسٹ کے خلاف قانونی مقدمہ جیتنے والی نرس بیتھنی ہچیسن نے نئی ہدایات کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں واضح اور ضروری قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا این ایچ ایس کے ادارے ان پر عمل درآمد کرتے ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب خواجہ سرا افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں ٹرانز ایکچوئل اور ٹرانز پلس سالیڈیرٹی الائنس نے مشترکہ بیان میں کہا کہ نئی ہدایات سے طبی عملے کے لیے خواجہ سرا مریضوں کی محفوظ نگہداشت کے حوالے سے ابہام پیدا ہوسکتا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق اس پالیسی سے خواجہ سرا افراد علاج کی سہولتیں حاصل کرنے سے گریز کرسکتے ہیں۔صنفی بنیاد پر حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیکس میٹرز کی سربراہ مایا فورسٹیٹر نے اس فیصلے کو حقیقت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ این ایچ ایس کے مریضوں کے ڈیٹا میں بھی مسائل موجود ہیں اور ممکنہ طور پر ہزاروں افراد کا اندراج ان کی حیاتیاتی جنس کے برعکس کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں





