ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کرکٹ کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں,محسن نقوی


وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لاہور کہا ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے کہ اسے سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔


چیئرمین پی سی بی نے ہفتہ کے روز لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اگلا اہم پروگرام خواتین کرکٹ کو مضبوط بنانا اور نچلی سطح پر نیا ٹیلنٹ تلاش کرنا ہے,پی سی بی ہمیشہ ٹیلنٹ کو سپورٹ کرتا رہے گا، پاکستان انڈر 19 ٹیم میں 11 کھلاڑی اسکول لیو ل سےآئے ہیں, پڑھائی کےساتھ ساتھ اسپورٹس میں بھی ترقی ضروری ہے،امید ہے بہت سے گولڈ میڈل آئیں گے,اسکولوں اور یونیور سٹیوں میں پوٹینشل بہت زیادہ ہے اور ہم ان بچوں کی ٹریننگ، خوراک اور گرومنگ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔


چیئرمین پی سی بی کا مزید کہنا تھا کہ قومی ٹیم کی کارکردگی پر کافی عرصے سے تنقید ہوتی رہی ہے تاہم کھلاڑیوں کی تیاری اور کرکٹ کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں دو سال قبل قومی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے نئے کھلاڑی دستیاب نہیں تھے جبکہ اب ملک میں موجود ٹیلنٹ کو سامنے لانے اور اسے بہتر انداز میں استعمال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ عاقب جاوید اور دیگر افراد نے اس سلسلے میں بہت محنت کی ہے پہلی مرتبہ اسکول کرکٹ کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت لاہور میں 1400 اسکولوں کی ٹیمیں موجود ہیں اگلے سال اسکول کرکٹ ٹیموں کی تعداد 3 ہزار سے زیادہ ہو جائے گی,ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ کرکٹ، ہاکی، فٹبال اور ایتھلیٹکس میں بے پناہ ٹیلنٹ چھپا ہے لیکن ہم اس کا ایک فیصد بھی استعمال نہیں کر رہے۔


چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ رواں سال سے پی سی بی جیتنے والی ٹیم کو 2 کروڑ روپے انعام دے گا جبکہ رنر اپ ٹیم کو ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے، انعامی رقم کا مقصد ٹیموں کی حوصلہ افزائی اور کرکٹ کے مقابلوں میں دلچسپی بڑھانا ہے, ویمن کرکٹ کو یونیورسٹی سطح پر فروغ دینے کے لیے پی سی بی 20 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کرے گا-


چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ویمن کرکٹ میں بھی بالکل ویسا ہی شاندار ٹیلنٹ سامنے آئے جس طرح ہمارے لڑکوں کا ٹیلنٹ دنیائے کرکٹ میں ابھر رہا ہے۔ ہمارے ملک میں کرکٹ کا ٹیلنٹ اس کثرت سے موجود ہے کہ اسے سنبھالنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے,قومی ٹیم کی کارکردگی پر کافی عرصے سے تنقید ہوتی رہی ہے تاہم کھلاڑیوں کی تیاری اور کرکٹ کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں-