کافی عرصے سے میں نے ڈرامے دیکھنا چھوڑ دیئے تھےـ اکثر اوقات دل کرتا کہ کچھ دیکھا جائے مگر ایک تو چینلزکی بھرمار اور ایسی ایسی عجیب و غریب کہانیاں کہ پرومو دیکھ کر ہی دل بیزار ہوجاتا ہےـ یہ بھی کوئی ڈرامے ہیں؟ ڈرامے تو ہمارے دور میں تھے، جو ہر لحاظ سے ایک سنہرا دور تھاـ وہ ڈرامے نہیں تھے، ہماری تعلیمی درسگاہ تھےـ ہم نے بہت کچھ سیکھا اور سب سے بڑی بات اخلاقیات، شرم و حیا ۔۔۔ جس کی ہر دور میں ہر نسل کے لئے بہت ضرورت ہےـ میری عمر کا ہر مرد و زن اُس دور کو یاد کرتا ہےـ صرف ایک ptv تھا اور گویا ہم سب کی دُنیا بلکہ کل کائنات تھا مگر آج کے دور میں ناجانے کون کون سے چینلز ہیں جنہوں نے یہ بیڑا اٹھایا ہے کہ نئی نسل کا ہر لحاظ سے بیڑا غرق کرکے چھوڑیں گے اور اُن کے ساتھ ساتھ ہمارے رائٹرز بھی کسی سے پیچھے نہیں ـ
ہر کہانی بس عشق اور محبت کے ہی گرد گھومتی ہےـ غریب گھرانے کی خوبصورت نک چڑی لڑکی اور نہایت امیر کبیر اکلوتا لڑکا، جو ناجانے کیا کرتا ہے؟ مگر اُس کا 10 کنال پر گھر ہوتا ہے، پورچ میں ایک سے ایک قیمتی گاڑی کھڑی ہوتی ہے اور خدام کی فوج، ہاتھ باندھے آگے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں ـ کھانے کی میز انواع و اقسام کے بے شمار کھانوں سے بھری ہوتی ہے اور میز پر ایک اکیلا شخص، جس کے نہ آگے کوئی ہوتا ہے اور نہ پیچھے ۔۔۔
پچھلے دنوں سوچا کہ چلو بیچاری LCD دیوار پر لگی سوکھ رہی ہے تو آج آن کرکے چیک کیا جائے کہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں؟ آن کیا تو بہت مشہور چینل پر ایک ڈرامہ چل رہا تھا۔۔ غریب کلرک کی خوبصورت بیٹی اور ایک بیوروکریٹ خوبصورت لڑکا ۔۔ اب کلرک کی بیٹی ۔۔ جینز اور چھوٹی سی شرٹ پہنے، یہ سنہرے سنڈریلا جیسے بال کھولے سڑک کنارے گھوم رہی ہے اور لڑکا اپنی کروڑوں کی گاڑی میں سوار اُس کے حسن میں ایسا کھو جاتا ہے کہ پھر اُس کے گھر کا پیچھا کرتا ہےـ اُسے پانے کے لئے اُس لڑکی کے باپ کے دفتر میں نوکری کرلیتا ہے۔۔ اور سب سے دلچسپ بات کہ لڑکی کا پیچھا کرتے ہوئے، لڑکی اُسے تھپڑ مارتی ہے مگر وہ مسکرا کر اگلے دن اُس کو پروپوز کردیتا ہے( جب کہ حقیقت میں اگلے روز لڑکی کی تشدد زدہ لاش ملتی ہے) اور تھوڑے سے نخروں کے بعد لڑکی " ہاں" کردیتی ہے اور پھر رانی بن کر وہ اُس محل میں آ جاتی ہے اور ڈرامہ ختم ۔۔۔۔
دوسرا چینل لگایا تو ۔۔۔ پھر اسی سے ملتی جلتی کہانی ۔۔ لڑکے کا تو فام ہاؤس دیکھ کر ہی میری تو آنکھیں حیرت کے مارے بس پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور لڑکی جس کی نہ شکل اور نہ عقل اور ایک مڈل کلاس کی ۔۔ ضد میں وہ نکاح کرکے اُسے اپنے گھر لے آتا ہے اور پھر لڑکی کی بدتمیزیاں بھی ہنس ہنس کر برداشت کررہا ہے۔۔ کمال ہے کہ ایسے لڑکے کس سیارے کے باشندے ہیں، کم از کم روئے زمین پر تو ایسی مخلوق نہیں پائی جاتی ـ
سوچا کہ چلو آج سارے چینلز کی سیر کرتی ہُوں شاید کچھ اچھا مل ہی جائے؟
گھومتے گھومتے ایک اور جگہ رک گئی اور حیرت کے مارے دانتوں میں اُنگلی دبا تو کیا چبا ہی لی (وہ تو جب تکلیف ہوئی تو معلوم ہوا) اب سین ہی کچھ ایسا تھاـ یونیورسٹی میں بیٹھے چند لڑکے، لڑکیاں ۔۔ اور ہنسی مذاق میں نکاح، دونوں جانب سے قبول ہے ۔۔ قبول ہے۔۔ اور پھر لڑکی کو ایک ویڈیو کے ذریعے احساس ہوتا ہے کہ میں تو اُس کی بیوی ہوں اور سامان اٹھا کر وہ لڑکے کے گھر چلی جاتی ہے اور وہاں ایک نیا ڈرامہ شروع ہے ۔۔ مُجھے تو رائٹر پر حیرانی ہورہی ہے کہ وہ جینزی جنریشن کو کیا دکھا رہے ہیں؟ باقی سب کہانیاں تو ایک طرف اب نکاح کو بھی مذاق بنا دیا ہےـ ایک عام لڑکی کے ذہن میں کیا زہر گھولا جا رہا ہے کہ نکاح اتنا آسان کام ہے کہ ایسے کھیل کھیل میں بغیر باپ( ولی) کے؟ کیا پیغام دیا جا رہا ہے کہ نکاح کوئی مذاق ہے جو کلاس میں بیٹھے بیٹھے ہوجائے اور گواہ سارے وہ ایلیٹ کلاس لڑکے لڑکیاں ۔۔ جن کو اِس مقدس عہد کا کوئی ادراک ہی نہیں اور پھر لڑکے کے گھر والے اتنے اچھے؟ خود سوچیے کہ حقیقت میں کیا ایسا ممکن ہے؟ گھر والے تو لڑکی کو کبھی اندر گھسنے ہی نہ دیں مگر یہاں وہ ایسے مزے سے رہ رہی ہےـ
ابھی اِس پر غور و فکر کرتے ہوئے دل جل بل رہا تھا کہ ایک اور کہانی نظر آ گئی ۔۔ لڑکی کسی دربار پر کھڑی دعا مانگ رہی ہے اور لڑکا وہیں دل ہار گیا اور بس اب آگے وہی روایتی کہانی چلے گی ۔۔۔ اب ایک ڈرامے کا یہ سین ۔۔ لڑکی نے گاڑی سے اترنا ہے۔۔ ساری سڑک سوکھی ہے جب کہ جہاں گاڑی کھڑی کی ہے، وہاں پانی ہے، لڑکا ہیروئن کو اُترنے نہیں دیتا، خود باہر نکلتا ہے، لڑکی کے قدموں کے نیچے پتھر رکھتا ہے اور پھر وہ ادائیں دکھاتی گاڑی سے اُترتی ہےـ اب کیا یہ کوئی حقیقی منظر ہے؟ انسان گاڑی آگے پیچھے کرلیتا ہے یا پھر شاید عشق اندھا کر دیتا ہے، جس میں لڑکے کی " انا اور خودداری" سب مر جاتی ہےـ اور قدموں میں سر رکھنے کو وہ تیار ہوتا ہےـ
ہر ڈرامے میں ہیروئن اتنی معصوم ہوتی ہے گویا اُس پر ہی ساری معصومیت ختم ہوگئی تھی اور ہم جیسے لوگوں کے لئے معصومیت بچی ہی نہیں تھی ـ عشق کی راہ پر چلتے ہوئے کوئی ڈر خوف نہیں ہوتا مگر ایک کتے سے ڈر کر وہ بیہوش ہوجاتی ہےـ
اب ایک ڈرامے کی کہانی بہت اچھی ہے اور سبق آموز بھی مگر اُس میں ہیرو کم فرشتہ زیادہ دکھایا گیا ہےـ ایک دوست کا فون آیا کہ" ہائے! اُس ڈرامے میں دیکھا کتنا فرمانبردار بیٹا ہے؟ ماں کی بات مانتے ہوئے اُس لڑکی سے نکاح تک کرلیا اور ایک میرا بیٹا ہے، کوئی بھی بات نہیں مانتاـ بھائی کی بیٹی سے اُس کی شادی کرنا چاہتی ہوں مگر اُسے وہ پسند ہی نہیں ـ" میں نے کہا: " میری بہن! یہ چینلز کی دنیا ہے، اِس میں سب کچھ ممکن ہے مگر ہماری زندگی کے اصلی چینلز پر یہ سب ممکن نہیں ہےـ" اور فون بند ہونے کے بعد میں یہ سوچ رہی تھی کہ پہلے زندگی میں فساد کم ہیں جو اب ہر گھر میں یہ فساد بھی ہوگا کہ: " میں کتنی بدنصیب ماں ہُوں، جس کا بیٹا تُم جیسا نافرمان ہےـ کاش! ابوبکر میرا بیٹا ہوتاـ"
مُجھ میں اتنی تاب نہیں تھی کہ باقی سب چینلز اور ڈراموں کو بھی دیکھتی ـ فورآ LCD کا کنیکشن ہی اُتار دیا کہ تم دیوار پر خاموش لٹکی ہی ٹھیک ہوـ وہ دن ہے اور آج کا دن میرا سر درد ہی ٹھیک نہیں ہو رہا اور میں یہ سوچ رہی ہوں کہ قلم تو ہمارے پاس ایک امانت ہے اور ہمیں اِس سے نیکی کو پھیلانا ہے، بدی کو روکنا ہے، مگر یہ لکھاری کیا واقعی ایسا " جہاد " اپنے قلم سےیہ لکھاری کررہے ہیں؟ یہ کس دُنیا کی کس دیس کی کہانیاں لکھ رہے ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو کس راہ پر چلنے کی ترغیب دے رہے ہیں؟ کیا زندگی کا مقصد یہ عشق، محبت، پیسہ ہی ہے؟ روز بہ روز بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہےـ اور نوجوان نسل اسی تخیلاتی دُنیا کی تلاش میں اپنے محور سے دُور ہوتی جا رہی ہےـ راتوں رات امیر ہونے کے لئے وہ کسی بھی حد کو پار کرنے کے لئے تیار ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے کردار کو بھی داؤ پر لگا رہا ہےـ آخر اِن سب کا ذمہ دار کون ہے؟ والدین، تعلیمی ادارے یا پھر سوشل میڈیا؟ ہمارے اِن بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ اِن کٹھ پتلیوں کی ڈور آخر کن ہاتھوں میں ہے؟ کیا آپ کے پاس اِس سوال کا جواب ہے؟
مزید پڑھیں





