ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مضبوط عورت کی سب سے بڑی ہار،تحریر:ام عبدالقہار

نقطہ نظر

وہ سب کی طاقت بنتی رہی، یہاں تک کہ اس کے اپنوں نے سمجھ لیا کہ اسے کسی سہارے کی ضرورت ہی نہیں۔


اس روز مریم کے بھتیجے نے گفتگو کے دوران اچانک ایک ایسی بات کہہ دی جس نے اس کے برسوں کے یقین کو ہلا کر رکھ دیا۔


”پھوپھو! آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ اپنے شوہر کو شوہر سے زیادہ بیٹے کی طرح رکھتی ہیں؟ ان کی ہر پریشانی آپ کی پریشانی ہے، ہر ذمہ داری آپ خود اٹھا لیتی ہیں۔ پھر وہ شوہر کی طرح ذمہ داریاں کیوں نبھائیں؟ آپ نے تو انہیں عادت ڈال دی ہے کہ آپ سب کچھ سنبھال لیں گی!“


مریم نے بھتیجے کی طرف دیکھا۔ عمر میں اس سے بہت چھوٹا لڑکا آج اسے زندگی کا وہ سبق دے رہا تھا جو شاید برسوں کے تجربات بھی نہ سکھا سکے تھے۔


وہ خاموش ہوگئی۔


اس کے ذہن میں بچپن سے لے کر آج تک کے بے شمار مناظر گھومنے لگے۔


وہ اپنے باپ کی وہ بیٹی تھی جسے ہمیشہ بہادر کہا گیا۔ گھر میں کوئی مشکل آتی تو والد کہتے:


”مریم سمجھ دار ہے، یہ خود سنبھال لے گی۔“


بھائیوں کے سامنے کبھی کسی پریشانی کا ذکر کرتی تو جواب ملتا:


”تم کون سا کسی سے کم ہو؟ تمہیں ہماری کیا ضرورت ہے؟“


وہ ان جملوں کو محبت اور اعتماد سمجھتی رہی۔ اسے اپنی خودمختاری پر فخر تھا۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ جن الفاظ کو وہ اپنی طاقت سمجھ رہی ہے، وہی ایک دن اس کے حصے کی محبت، توجہ اور ذمہ داریوں کو دوسروں کی نظروں سے اوجھل کردیں گے۔


پھر شادی ہوگئی۔


مریم نے وہی کردار یہاں بھی نبھانا شروع کردیا۔


شوہر پریشان ہوتے تو وہ حل تلاش کرتی۔ مالی مشکلات آتیں تو اپنے وسائل استعمال کرتی۔ گھر کا کوئی معاملہ الجھتا تو خود آگے بڑھتی۔


اس کے ہونٹوں پر ایک ہی جملہ رہتا:


”آپ پریشان نہ ہوں، میں ہوں نا!“


کبھی بیمار ہوتی تو دوا کھا کر کام میں لگ جاتی۔ کبھی دل دکھتا تو آنسو چھپا لیتی۔ کبھی چاہتی کہ کوئی اس سے پوچھے کہ تمہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں، مگر سوال کرنے والے بھی اس کی مضبوطی کے اتنے عادی ہوچکے تھے کہ انہیں اس کی خاموشی میں چھپی تکلیف محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔


وقت گزرتا گیا۔


باپ کے لیے وہ سمجھ دار بیٹی رہی، بھائیوں کے لیے مضبوط بہن اور شوہر کے لیے ہر مشکل کا حل نکالنے والی بیوی۔


مگر ان تینوں رشتوں میں وہ عورت کہیں کھو گئی جسے باپ کی شفقت، بھائی کی حمایت اور شوہر کے سہارے کی ضرورت تھی۔


ایک دن وہ شدید بیمار تھی۔ گھر کے کام، اخراجات اور ضروری معاملات اس کے سامنے بکھرے پڑے تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ آج کوئی خود آگے بڑھ کر کہے:


”تم آرام کرو، باقی ہم دیکھ لیں گے۔“


مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔


سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف رہے، جیسے مریم کا بیمار ہونا بھی کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے گھر کے معمولات متاثر ہوسکتے ہوں۔


اس رات وہ بہت روئی۔


اسے اپنی بیماری سے زیادہ اس احساس نے تکلیف دی کہ وہ سب کی ضرورت تھی، مگر اس کی ضرورت کسی کی ترجیح نہیں تھی۔


چند روز بعد وہ اپنی ایک رشتہ دار کے گھر گئی۔ وہاں ایک بوڑھی ماں کمزور ہاتھوں سے اپنے جوان بیٹے کے لیے کھانا تیار کررہی تھی۔


بیٹا آرام سے بیٹھا موبائل استعمال کررہا تھا۔


ماں نے پانی مانگا تو اس نے بے خیالی سے کہا:


”امی! خود لے لیجیے، آپ تو سارے کام خود کرلیتی ہیں۔“


مریم کے دل پر جیسے کسی نے چوٹ لگائی۔


وہ ماں اپنے بیٹے سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ بچپن سے اس کے ہر کام کو اپنے ذمہ لے لیا تھا، اسے کبھی کسی مشکل کا سامنا نہ کرنے دیا۔ مگر آج اسی ماں کے کان اپنے بیٹے کے منہ سے ایک تسلی بخش جملہ سننے کو ترس رہے تھے۔


مریم کو اپنا بھتیجا یاد آگیا۔


اس نے سوچا:


”کیا محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسرے کو اس کی ذمہ داریوں سے آزاد کردیں؟ کیا مضبوط ہونا یہ ہے کہ ہم اپنی تمام ضرورتوں کو دفن کردیں؟“


اسے احساس ہوا کہ وہ ساری زندگی ایک ایسی غلطی دہراتی رہی جس میں محبت کے ساتھ بے جا ذمہ داری اٹھانے کا جذبہ بھی شامل تھا۔


وہ دوسروں کو سہولت دیتی رہی اور اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ اس کی سہولت بعض رشتوں میں مستقل بے فکری بن چکی ہے۔


البتہ یہ بھی حقیقت تھی کہ اس کی مضبوطی کسی باپ، بھائی یا شوہر کو اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرسکتی تھی۔ ان پر بھی لازم تھا کہ وہ اس کی خاموشی کے پیچھے چھپی تھکن کو سمجھتے۔


اس نے قرآنِ کریم کے اس حکم پر غور کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر قوام بنایا ہے۔ (سورۃ النساء: 34)


اسے سمجھ آیا کہ قوامیت محض اختیار اور برتری کا نام نہیں، بلکہ شوہر کے لیے کفالت، حفاظت اور ذمہ داری اٹھانے کا فریضہ بھی ہے۔ اسی طرح باپ، بھائی اور بیٹے کے بھی اپنے رشتوں کے مطابق حقوق اور ذمہ داریاں ہیں۔


مگر زندگی کی تلخ حقیقت یہ تھی کہ اس کے اس احساس سے نہ ماضی بدل سکتا تھا، نہ برسوں میں بنی ہوئی عادتیں اچانک ختم ہوسکتی تھیں۔


اس نے کسی سے کوئی شکوہ نہیں کیا۔


نہ باپ سے، نہ بھائیوں سے، نہ شوہر سے۔


اس نے صرف اپنے اندر ایک فیصلہ کرلیا۔


اس کی ایک چھوٹی سی بیٹی تھی۔


وہ اسے دیکھتی تو سوچتی کہ کہیں یہ بچی بھی بڑی ہوکر اپنی ماں کی طرح ہر بوجھ اٹھانے کو اپنی کامیابی نہ سمجھنے لگے۔


اس روز مریم نے بیٹی کو اپنے قریب بٹھایا۔ اس کے بال سنوارے اور محبت سے کہا:


”میری بچی! میں تمہیں پڑھاؤں گی، ہنرمند بناؤں گی، باہمت اور خوددار بناؤں گی۔ تمہیں اتنا مضبوط بناؤں گی کہ زندگی کی مشکلات تمہیں بے بس نہ کرسکیں۔ مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، تمہارا مضبوط ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ تمہارے باپ، بھائی یا مستقبل کے شوہر کی ذمہ داریاں ختم ہوگئیں۔


تم بیٹی ہو تو باپ کی شفقت تمہارا حق ہے۔ بہن ہو تو بھائی کی خیرخواہی اور حمایت تمہارے رشتے کا حسن ہے۔ بیوی بنو تو شوہر کی محبت کے ساتھ اس کی ذمہ دارانہ سرپرستی اور کفالت بھی تمہارا حق ہے۔


تم کسی پر ناجائز بوجھ مت بننا، مگر دوسروں کے حصے کی ساری ذمہ داریاں بھی اپنے کندھوں پر مت اٹھا لینا۔ مدد مانگنے کو کمزوری مت سمجھنا اور اپنے حقوق کا احساس کبھی مت کھونا۔“


بیٹی شاید ان باتوں کی گہرائی نہ سمجھ سکی، مگر مریم جانتی تھی کہ وہ اسے صرف نصیحت نہیں کررہی، اپنی پوری زندگی کا حاصل سونپ رہی ہے۔


اس دن مریم کے باپ، بھائی اور شوہر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اس کی زندگی کے بوجھ بھی کم نہیں ہوئے تھے۔


بس اس نے ایک حقیقت سمجھ لی تھی:


”میں نے اپنی مضبوطی ثابت کرتے کرتے اپنوں کو اپنی ضرورت کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔ اب اپنی بیٹی کو اتنا مضبوط ضرور بناؤں گی کہ وہ کسی کی محتاج نہ ہو، مگر اتنا تنہا کبھی نہیں ہونے دوں گی کہ اس کے اپنے اپنی ذمہ داریاں بھول جائیں۔“


کیونکہ عورت کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ باپ، بھائی اور شوہر تینوں کے کردار اکیلی نبھا لے۔


اس کی اصل خوش نصیبی یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے ساتھ جیے اور اس کے محرم رشتے بھی اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔


اور سب سے تلخ حقیقت؟


کبھی کبھی عورت اپنے حقوق سے اس لیے محروم نہیں ہوتی کہ وہ کمزور ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے اپنی مضبوطی کے پیچھے اپنی ضرورتوں کو اتنی مہارت سے چھپا لیا ہوتا ہے کہ اس کے اپنے اسے انسان نہیں، ہر مشکل کا حل سمجھنے لگتے ہیں۔


کاش! ہماری بیٹیوں کو مضبوط بناتے ہوئے یہ بھی سکھایا جائے کہ انہیں ہر رشتے کی ذمہ داری خود نہیں اٹھانی، بلکہ ہر رشتے کو اس کے اصل مقام پر رہنے دینا ہے۔