ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مومن کی اصل کامیابی ،تحریر: فاطمہ زہراء

نقطہ نظر


مومن کبھی غم کو اپنی مستقل کیفیت نہیں بننے دیتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب غم دل و جاں پر تسلّط جما لے تو انسان کو اس کے اصل مقصد، مقصدِ حیات اور منزلِ آخرت سے غافل کر دیتا ہے۔ مومن کے غم بھی صبر کی ردا میں ملفوف ہوتے ہیں اور اس کی نگاہ دنیا کی عارضی محرومیوں سے زیادہ اپنے رب کی رضا اور آخرت کی ابدی کامیابی پر مرکوز رہتی ہے۔ وہ کرب کی شدت میں بھی اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا، محرومیوں کی یورش میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا اور ابتلاؤں کی تند و تیز آندھیوں میں بھی اپنے قدم رضائے الٰہی کی سمت بڑھاتا رہتا ہے۔

وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے، دارالقرار نہیں؛ یہاں کی ہر خوشی عارضی اور ہر رنج فانی ہے۔ لہٰذا وہ اپنے دل کو غم کی آماج گاہ بنانے کے بجائے صبر و توکل کی پناہ میں رکھتا ہے۔ اس کی نگاہ محض حال کے کرب پر نہیں، بلکہ اس اجرِ عظیم پر بھی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے وعدہ فرمایا ہے۔ وہ درد سے انکار نہیں کرتا، مگر درد کو اپنی زندگی کا حاصل بھی نہیں بننے دیتا؛ اس کی آنکھیں اشک بار ہو سکتی ہیں، دل بوجھل ہو سکتا ہے، مگر وہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔

ذرا اپنے گرد و پیش نگاہ ڈالیے اور اپنی محرومیوں کو وسیع تر تناظر میں دیکھیے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نعمتِ اولاد سے محروم رکھا، ازدواجی زندگی کو آزمائش بنا دیا، کسی محبوب رشتے کی جدائی سے دوچار کیا، مال و دولت کی فراوانی عطا نہ کی یا جان اور صحت کے ذریعے آزمایا ہے تو دل برداشتہ نہ ہوں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں پر نگاہ ڈالیے؛ وہ برگزیدہ ہستیاں بھی آزمائشوں کی بھٹی سے گزریں۔ حضرت ایوبؑ نے بیماری اور ابتلا کا سامنا کیا، حضرت یعقوبؑ نے فراقِ یوسفؑ میں گریہ کیا اور حضرت زکریاؑ نے بڑھاپے میں اولاد کے لیے دعا فرمائی۔ جب اللہ کے برگزیدہ بندوں کی زندگیاں بھی آزمائشوں سے عبارت رہیں تو ہم اپنی زندگی کو ہر محرومی سے پاک رکھنے کی توقع کیسے باندھ سکتے ہیں؟

یہ دنیا ہماری خواہشات کے مطابق عطا ہونے والی نعمتوں کا مسکن نہیں، بلکہ صبر، شکر، بندگی اور توکل کی آزمائش گاہ ہے۔ یہاں ہر شخص کا امتحان جداگانہ ہے؛ کسی کے حصے میں جدائی آتی ہے، کسی کے حصے میں تنہائی، کوئی تنگ دستی سے گزرتا ہے تو کوئی آسائشوں کے باوجود کسی ایسی کمی کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے جسے دنیا دیکھ نہیں پاتی۔ کسی کی آزمائش وہ ہے جسے وہ زبان پر لے آتا ہے اور کسی کا کرب وہ ہے جسے وہ مسکراہٹوں کے پردے میں چھپا لیتا ہے۔ اس لیے اپنی محرومیوں کو اپنی بے قدری کی دلیل نہ بنائیے اور نہ ہی کسی نامراد خواہش کو اپنی پوری زندگی کی ناکامی سمجھیے۔ بعض سوالوں کے جواب ہمیں دنیا میں نہیں ملتے، مگر مومن کا یقین اسے بے جوابی کے عالم میں بھی اپنے رب سے وابستہ رکھتا ہے۔

خدارا! اپنے سکون کو ماضی کے ملبے تلے دفن نہ کیجیے اور مستقبل کے ان اندیشوں میں اپنا آج برباد نہ کیجیے جن کا وقوع ابھی ہوا ہی نہیں۔ جو بیت گیا، اسے بدلنا آپ کے اختیار میں نہیں مگر اس کے زخموں سے سبق سیکھنا، ان سے شفا پانے کی کوشش کرنا اور دوبارہ زندگی کی طرف قدم بڑھانا آپ کے اختیار میں ہے۔ ماضی کی تلخیوں کو اللہ کے سپرد کیجیے، اپنے دل کو شکووں کے بوجھ سے ہلکا کیجیے اور حال کو اس یقین کے ساتھ گزاریے کہ آپ کا رب آپ کے حال سے بے خبر نہیں۔ جو آنسو کسی نے نہیں دیکھے، وہ بھی اس کے علم میں ہیں؛ جو دعائیں لبوں تک نہ پہنچ سکیں، وہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں؛ اور جو درد آپ کسی کو سمجھا نہ سکے، وہ بھی اس کی نگاہ سے اوجھل نہیں۔

یاد رکھیے، صبر کا مطلب یہ نہیں کہ دل میں درد نہ اٹھے، آنکھوں میں آنسو نہ آئیں یا انسان اپنی محرومیوں کا اظہار نہ کرے۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنے غم کا اظہار بھی فرمایا اور اللہ ہی کی طرف رجوع بھی رکھا۔ پس صبر یہ ہے کہ درد کے باوجود اللہ سے بدگمان نہ ہوا جائے، آنسوؤں کے باوجود اس کی رحمت سے امید وابستہ رکھی جائے اور محرومیوں کے باوجود زندگی سے رشتہ نہ توڑا جائے۔ اپنے غم کو دعا کا وسیلہ بنائیے، اپنی بے قراری کو مناجات میں ڈھالیے اور اپنی کمزوریوں کو اللہ کے حضور پیش کرکے اس سے مدد طلب کیجیے۔

مومن کی بصیرت یہ ہے کہ وہ غم کو اپنی شناخت، مایوسی کو اپنا مقدر اور بے قراری کو اپنی مستقل روش نہیں بناتا، بلکہ صبر کو زادِ راہ، توکل کو قوتِ قلب اور رضائے الٰہی کو اپنی زندگی کا مقصود بنا لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر آزمائش اس کے رب کے علم میں ہے، ہر آہ اس سے پوشیدہ نہیں اور ہر صبر کرنے والے کے لیے اس کے ہاں اجر کی امید ہے۔ وہ دنیا کے عارضی رنج و الم میں اس قدر محو نہیں ہو جاتا کہ اپنی ابدی منزل ہی فراموش کر بیٹھے، بلکہ ہر ابتلا میں بندگی کا دامن تھامے رکھتا ہے۔

آپ کا کام ہر خواہش کو پورا ہوتے دیکھنا نہیں بلکہ ہر حال میں اپنے ایمان، اپنے کردار اور اپنے قلب کے سکون کی حفاظت کرنا ہے جو گزر گیا، وہ ماضی کا باب تھا جو آنے والا ہے، وہ ابھی پردۂ غیب میں ہے۔ اپنے آج کو ان دونوں کے درمیان قربان نہ کیجیے۔ دعا کیجیے، کوشش کیجیے، جائز اسباب اختیار کیجیے اور جو آپ کے اختیار سے باہر ہے اسے اپنے رب کے سپرد کر دیجیے۔

جنت کے راہی وہ نہیں جن کی زندگیاں غموں سے خالی ہوتی ہیں، بلکہ وہ ہیں جو غموں کی کثرت میں بھی اپنے رب کی رحمت سے امید نہیں توڑتے۔ ان کا مقصد غم سے خالی زندگی نہیں، بلکہ غم کے ہر مرحلے میں اپنے ایمان کو سلامت رکھتے ہوئے اپنے رب کی رضا پانا ہوتا ہے ان کا یقین ہوتا ہے کہ دنیا کے غم خواہ کتنے ہی گراں کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت ان سے کہیں وسیع تر ہےاور جو دل اس کے حضور جھکنا جانتا ہو وہ شکستہ ہو کر بھی اس کی رحمت سے محروم نہیں ہوتا۔

پس اپنے دل کو دنیا کی ناپائیدار محرومیوں کا اسیر نہ بنائیےزندگی کو محض شکووں کا نوحہ بنانے کے بجائے بندگی، شکر اور امید کا سفر بنائیے اللہ کی حکمت پر بھروسا رکھیے، اس کی رحمت سے وابستہ رہیے اور اس ابدی منزل کو یاد رکھیے جہاں اہلِ ایمان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا، نہ حزن اور نہ ہی دنیا کی محرومیوں کا وہ کرب بلکہ اللہ کی رضا اور جنت کی لازوال نعمتیں ہوں گی۔

دنیا میں ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں، مگر ہر حال میں اپنے رب سے تعلق سلامت رکھنا ایک مومن کی اصل کامیابی ہے۔