بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بھارت:اروناچل پردیش میں ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر کے خلاف پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، فوج تعینات


چین کے جانب سے سرحد پار جاری آبی منصوبے کے جواب میں بھارت کی جانب سے ایک بڑے ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر کے اعلان پر شمالی مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں شدید عوامی احتجاج پھوٹ پڑا ہے۔


بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے نوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد حکام نے علاقے میں مزید سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جبکہ مقامی قبائلیوں نے آبائی زمینوں کی غرقابی کے خدشے کے پیش نظر منصوبے کی منسوخی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔


تبت کی سرحد سے متصل اروناچل پردیش کی ‘سیانگ وادی’ میں گزشتہ ہفتے مظاہرے پرتشدد ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور کم از کم 21 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل داغے جبکہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور ایک پولیس اسٹیشن کے ساتھ ساتھ سرکاری ‘نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن’ کے دفتر کو آگ لگا دی۔


اروناچل پردیش کے پولیس چیف ایس ڈی سنگھ جموال نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ’ جن مقامات پر ضرورت ہے وہاں فورسز کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ ہم امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہونے دینا چاہتے۔


گزشتہ 2 برسوں کے دوران سیانگ وادی میں وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ یہ وادی 11,200 میگاواٹ کے مجوزہ ’سیانگ اپر ملٹی پرپز پروجیکٹ‘ کا مقام ہے، جسے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کے تحت تیار کیا جائے گا،اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کو خدشہ ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے ان کے ‘آدی قبائل’ کے آبائی گاؤں پانی میں ڈوب جائیں گے۔


سیانگ ندی تبت سے اروناچل پردیش میں داخل ہوتی ہے، جہاں اسے ‘یارلنگ زانگبو’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چین نے تبت میں دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور ڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا، جس نے نئی دہلی میں یہ خدشات پیدا کر دیے کہ اس کا دیرینہ اسٹریٹجک حریف دریا کے بہاؤ پر کنٹرول کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔


واضح رہے کہ چین اروناچل پردیش پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اسے ‘زانگنان’ یعنی جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ ریاست اس کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے،اروناچل پردیش کے بی جے پی سے وابستہ وزیر اعلیٰ چین کے اس آبی منصو بے کو ریاست کے  وجود کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں-