یہ جسم کے خدو خال میرے ،شاعرہ:کنیز سسیلیا منظور
نقطہ نظر
مسوجنی ادب کے لکھاریوں سے سوال،شاعرہ: کنیز سسیلیا منظور
یہ جسم کے خدو خال میرے
سب قدرت کے ہیں ودیعت کردہ
میرا حسن میری بناوٹ ہے صناعی'خدا
کس نے دیا حق تمہیں ان پہ ہنسنے کا
میں عورت ہوں، نہیں جوکر کوئی
نہ میں محض مشین تسکین کی
نہ میں کھلونا نہ میں بچھونا
نہ میں پاوں کی جوتی
نہ میں ماٹی کی گڑیا کوئی
جو نہ سمجھے تمہارے مزاح
اور تمہاری تضحیک کوئی
کیوں کم تر سمجھا گیا ؟
میرے جسم پہ مزاح لکھا گیا
علاج ہسٹیریا کا شادی سمجھا گیا
جب یہی مرض ہوا مردوں کو
تب ذہنی دباؤ و انتشار کہاں گیا
میں بھی تخلیق ہوں اسی خالق کی
جس نے مرد ذات کو پیدا کیا
تو پھر میں کمتر کیسے ہوئی؟
دکھ تو یہ ہے کہ !
کبھی خود عورت بھی
بربادئ عورت کا ساماں بنی۔
بعد خالق عورت ہی نے تمہیں
رنگ روپ جسم و جاں دیا
اور ماں کے روپ میں انمٹ پیار
ہو کے نازک سہہ جاتی درد کے پہاڑ
حفاظت _مادری سے ہو سرشار
لڑ جاتی ہر خطرے سے
رکھی گئ جنت جس کے قدموں تلے
اسی جنت پہ ہنستے ہو کیسے ؟
دل کی ٹھنڈک روپ میں بیٹی کے
بہن میں چھپا انمول پیار
بیوی کی صورت جسم و جاں کا قرار
تو کیوں ہوں میں وجہ،مزاح ؟
کیوں نہیں دیتے برابر عزت و وقار
مزید پڑھیں




