وہ مجسم روپ ہے ایجاد کا،شاعرہ:سائرہ علی
نقطہ نظر
مصنف:
وہ مجسم روپ ہے ایجاد کا
استعارہ ہے وہی فولاد کا
کرب سہہ کر بھی جو ہنستی ہی رہی
وہ مداوا ہے دلِ ناشاد کا
رنگ دنیا میں اسی کے دم سے ہیں
مظہرِ کامل ہے وہ ارشاد کا
روشنی پھیلی ہے اس کے نام سے
وہ ہنر ہے رب کی ہر امداد کا
تیرگی میں روشنی کا روپ ہے
وہ تو محور ہے نئی بنیاد کا
ظلم کی لہریں بدل دیتی ہے وہ
رخ بدل دیتی ہے ہر بیداد کا
عزم ہے اس کا ہمالوں سے بلند
وہ قصیدہ ہے دلِ آزاد کا
سائرہ علی
مزید پڑھیں




