منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وفا کی راہ میں اچھے شعار کرنا عبادت ہے،شاعر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

تھکن (نثری نظم)

ندیم یعقوب گوہر


روح کی دیوار پر

اداسی کی کائی جم گئی

اب خیالوں کا بوجھ

پلکوں سے اٹھایا نہیں جاتا،

بس

ایک لمبی نیند اور خاموشی

سنانے کی طلب ہے


سانس بوجھل،

قدم پتھر ہو گئے،

خوابوں کی تھکن

اب روح میں ہے ۔

قصہ تھکن کا

سانس کو جو بنیں،

خواب ادھورے ٹھہرے،

اب سکون چاہیے ۔


.....................................



آنکھیں ( نثری نظم)

ندیم یعقوب گوہر

​دو گہرے سمندر،

خاموش گفتگو کا عکس،

پلکوں تلے چھپا

خوابوں کا بسیرا،

روح کا راشد،

نشتر جلیس،

کائنات کا آئینہ،

ایک مکمل قصہ

تیری آنکھیں۔


.................................


غزل

ندیم یعقوب گوہر


وفا کی راہ میں اچھے شعار کرنا عبادت ہے

کسی کی یاد کا دل میں حصار کرنا عبادت ہے


خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کرنا عبادت ہے

خلوصِ دل سے کسی کا انتظار کرنا عبادت ہے


جو ٹوٹے دل کو جوڑ دے وہ غمگسار عبادت ہے

دکھی دلوں کا جہاں میں ادھار کرنا عبادت ہے


شکستوں کے سفر میں شہسوار کرنا عبادت ہے

تھکے ہوؤں کا بہت ہی وقار کرنا عبادت ہے


گرے ہوؤں کا جہاں اعتبار کرنا عبادت ہے

شکستہ روح کا مل کر نکھار کرناعبادت ہے


انا کے بت کو ہمیشہ ہی تار تار کرنا عبادت ہے

بشر کا آپ ہی اپنا شکار کرنا عبادت ہے


کسی کے ہجر کو بھی پائیدار کرنا عبادت ہے

پرائی چوٹ کا اب انتظار کرنا عبادت ہے


سخن کی مانگ میں بھر کے ستاروں کو اے گوہر

غزل کے فن کو ہی پیشِ بہار کرنا عبادت ہے