سجی ہے خوب ستاروں سے کہکشاں یارو،شاعر:صفدر بھٹی
نقطہ نظر
مصنف:
غزل
سجی ہے خوب ستاروں سے کہکشاں یارو
کہ دیکھیے تو ذرا اس طرف وہاں یارو
کہیں پہ زہرہ کہیں مشتری کہیں چندا
نظر ٹھہرتی ہے امشب جہاں جہاں یارو
کمال دھج ہے فسوں خیز دلفریبی ہے
بہشت باغ میں حوروں کا ہے سماں یارو
چمن میں کوئلیں نغمے سنا رہی ہیں سنو
گلوں پہ بوسے لٹاتی ہیں تتلیاں یارو
کہیں گلاب کہیں پر سمن کہیں نرگس
دلوں میں جوت جگاتی کہانیاں یارو
عمیق خانے میں مضطر دھمال جاری ہے
کہیں پہ شوق کا اشتر ہوا جواں یارو
پڑھے کوئی کبھی اے کاش ایک مدت سے
پڑے جو طاق میں نامے سبھی نہاں یارو
چلو کہ بزم کو کہتے ہیں اب خدا حافظ
دعائیں دیتے ہیں صفدر کہ فی اماں یارو
مزید پڑھیں





