پنک ٹوبر مہم: کراچی کی سڑکوں پر خواتین کی موٹرسائیکل ریلی، چھاتی کے سرطان کے خلاف آگاہی مہم

پنک ٹوبر کے موقع پر چھاتی کے سرطان سے آگاہی کی مہم کو ایک بار پھر اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ اتوار کراچی کی سڑکوں پر خواتین کی قیادت میں موٹر سائیکل ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں خواتین بائیکرز، منتظمین اور ایک طبی ماہر نے شرکت کی۔
ریلی کا مقصد چھاتی کی صحت، مرض کی بروقت تشخیص اور خواتین کی صحت کو ترجیح دینے کی اہمیت کے بارے میں گفتگو کو فروغ دینا تھا۔
زیڈ وولٹا نے کراچی بائیکرز کلب کے اشتراک سے ’’کیوٹیز آن اسکوٹیز ریلی‘‘ کے دوسرے ایڈیشن کا اہتمام کیا۔ اس اجتماع کے ذریعے چھاتی کے سرطان سے آگاہی کو روایتی طبی مراکز سے نکال کر عوامی مقامات تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، تاکہ خواتین اس مرض کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور بروقت طبی مشورہ لیں۔
اس مرض کے پھیلاؤ کے اعداد و شمار ایسی کوششوں کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 24 لاکھ خواتین میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی، جبکہ اس مرض کے باعث تقریباً 6 لاکھ 94 ہزار اموات ہوئیں۔
پاکستان میں چھاتی کا سرطان خواتین میں عام طور پر تشخیص ہونے والے سرطانوں میں شامل ہے۔ انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کے مطابق 2022 میں پاکستان میں خواتین میں اس مرض کے تقریباً 30 ہزار 682 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
منتظمین کے مطابق ریلی کا مقصد اس مرض سے متعلق گفتگو کو زیادہ نمایاں کرنا تھا، خصوصاً ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کی صحت سے متعلق موضوعات پر بات شروع کرنا اب بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
زیڈ وولٹا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شریک بانی انوشہ شاہد نے کہا کہ اس بار یہ سواری ایک مقصد کے لیے ہے، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس موضوع پر زیادہ وسیع پیمانے پر گفتگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریلی میں ایسی خواتین شریک ہوئیں جو پہلے ہی سماجی بدنامی اور ممنوع سمجھے جانے والے موضوعات سے متعلق روایتی تصورات کو چیلنج کر رہی ہیں۔ اس اجتماع نے چھاتی کی صحت پر بات کرنے اور خواتین کو اپنی صحت پر زیادہ توجہ دینے کی ترغیب دینے کا موقع فراہم کیا۔
انوشہ شاہد نے کہا کہ ہم خواتین اپنی روزمرہ زندگی میں اکثر یہ بھول جاتی ہیں کہ ہمیں خود کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد خواتین کو اپنی صحت کو اہمیت دینے کی یاد دہانی کرانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہم نے سب کو ایک جگہ جمع کیا ہے، تاکہ خواتین کو یاد دلایا جا سکے کہ اپنی صحت اور ضروریات کو ترجیح دینا اہم ہے اور وہ اپنے اردگرد دوسری خواتین کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں۔ زیڈ وولٹا پاکستان میں قائم الیکٹرک موبلٹی کمپنی ہے، جو الیکٹرک گاڑیوں، بالخصوص الیکٹرک دو پہیوں والی سواریوں کے لیے چارجنگ انفرااسٹرکچر کو وسعت دینے پر کام کر رہی ہے۔
ریلی کا آغاز زیڈ وولٹا کے ہیڈکوارٹرز سے ہوا۔ خواتین بائیکرز شارع فیصل پر ایک ساتھ سفر کرتی ہوئی آواری ٹاور تک پہنچیں اور پھر نقطۂ آغاز پر واپس آگئیں۔ ریلی کے ساتھ منتظمین کے مقرر کردہ مارشلز اور ٹریفک پولیس بھی موجود تھی۔ کراچی کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک پر اس ریلی کے ذریعے چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا پیغام شہریوں تک پہنچایا گیا۔
مزید پڑھیں





