بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

افغان طالبان رجیم میں غیر ملکی امداد کی شفافیت میں تشویشناک خامیوں کا انکشاف


کابل انسٹی ٹیوٹ کی ایک تفصیلی رپورٹ میں بین الاقوامی غیر ملکی امداد کی شفافیت میں تشویشناک خامیوں کا انکشاف ہونے کے بعد افغان طالبان رجیم کے مالیاتی احتساب پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران انسانی امداد کے لیے ترقیاتی اداروں کو 8 ارب ڈالر فراہم کیے گئے، جن میں امریکا، برطانیہ اور جرمنی بڑے عطیہ دہندگان میں شامل ہیں تاہم، اس خطیر رقم میں سے ان اداروں سے آگے مستحقین تک منتقل ہونے والی صرف 2 کروڑ 19 لاکھ ڈالر کی رقم کا سراغ لگایا جا سکا، جبکہ عوامی ریکارڈ میں مجموعی فنڈز کے 91 فیصد کے استعمال یا منتقلی سے متعلق کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔رپورٹ میں مالیاتی نگرانی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات اجاگر کیے گئے ہیں۔


اس کے مطابق 1 ارب 42 کروڑ ڈالر مالیت کی 316 ادائیگیوں میں وصول کنندگان کے نام صرف ’’خفیہ‘‘ درج کیے گئے ہیں۔مزید برآں، ترقیاتی اداروں نے ایک ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت 1,208 منصوبوں کے لیے الگ سے 12 ارب ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کیے ہیں، جس میں شفافیت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔



یہ اعداد و شمار 2021 سے اب تک افغان طالبان رجیم کو براہِ راست ملنے والی 17.5 ارب ڈالر کی غیر ملکی گرانٹس کے علاوہ ہیں۔اربوں ڈالر کی امداد کی آمد کے باوجود عام افغان شہری شدید غربت اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ملک کی ابتر داخلی صورتِ حال نے لاکھوں شہریوں کو روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں وہ اکثر غیر قانونی ہجرت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔افغانستان کی داخلی معاشی صورتِ حال میں درآمدات اور برآمدات کے درمیان شدید عدم توازن برقرار ہے۔ ملک کی سالانہ درآمدات 12 ارب ڈالر جبکہ برآمدات محض 1.7 ارب ڈالر ہیں۔


اس طرح 10.3 ارب ڈالر کا بھاری تجارتی خسارہ پیدا ہوتا ہے، جو طالبان رجیم میں افغانستان کے غیر ملکی مالی وسائل پر مکمل انحصار کو اجاگر کرتا ہے۔


بڑے پیمانے پر بین الاقوامی امداد کی فراہمی اور عوام کی مسلسل مشکلات کے درمیان واضح تضاد نے طالبان رجیم کی جانب سے فنڈز کے انتظام و استعمال کے حوالے سے بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔


امداد کی مد میں اربوں ڈالر کی مسلسل آمد کے باعث عطیہ دہندگان پر یہ وضاحت کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ ان فنڈز کی نگرانی کیسے کی جا رہی ہے، رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے اور انسانی امداد افغان عوام کی مشکلات کم کرنے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے، جبکہ یہ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ امدادی رقوم ایک ایسے نظام میں غائب ہو رہی ہیں جہاں مالیاتی احتساب کا مؤثر نظام موجود نہیں۔