امریکی وسط مدتی انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری، ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری

امریکی ریاستوں ورمونٹ، ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، جورجیا، فلوریڈا، الینوائے، الاباما سمیت مختلف ریاستوں کےکئی علاقوں میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، انڈیانا اور کینٹکی کے بعض علاقوں میں بھی پولنگ کا وقت ختم ہونےکے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اہم مقابلوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدواروں کو سبقت حاصل ہے ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ کے 110 اور ریپبلکن کے 61 ارکان کو برتری حاصل ہے، 435 رکنی ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار ہے۔
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 11 نشستوں پر برتری کے بعد تعداد 45 ہوگئی جبکہ ریپبلکنز کو 5 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی جس کے بعد سینیٹ میں ریپبلکنز ارکان کی تعداد 36 ہوگئی۔ امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کیلئے 100میں سے 51 نشستیں درکار ہیں۔
شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی نشست ریپبلکن سے چھین لی، ڈیموکریٹ 'رائے کوپر' نے ریپبلکن 'مائیکل واٹلی' کو ہرا دیا۔ ریاست جارجیا سے ڈیموکریٹ رہنما 'جون اوسوف' دوبارہ سینیٹر منتخب ہو گئے,وسط مدتی انتخابات میں 3 خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیا-
امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں 3 امریکی خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیاAnil ، Luke اور Jessica نے ناسا کے خلائی اسٹیشن سے الیکٹرونک ووٹ ہیوسٹن خلائی مرکز کو بھیجا، کہا ووٹ کا حق خلا سے بھی استعمال کرسکتے ہیں,امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کےمطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا جبکہ دیگر ریاستوں نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوئی۔
امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں ہیں، کہیں سیاسی حریفوں سے براہِ راست مقابلہ تو کہیں کئی جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے ہیںlمشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہیں جہاں ان کا مقابلہ 4 امیدواروں سے ہے،کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کا مقابلہ بھی اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے ہے۔
دوسری جانب عام انتخابات میں رشیدہ طلیب کے مدمقابل ری پبلکن جیمز ہوپر سمیت 3 دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ امریکی سیاست میں مسلم امیدواروں کی بڑھتی موجودگی کے ساتھ یہ انتخابی مقابلے بھی خاص اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کو صدر کی کارکردگی کے بارے میں عوامی رائے کا ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ان انتخابات میں ووٹرز صدر کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں، بعض ریاستوں کے گورنروں اور دیگر عہدوں کے لیے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔
اس کے باوجود وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر کے لیے سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم ہوتے ہیں، کیونکہ کانگریس کے دونوں ایوان قانون سازی، بجٹ، حکومتی اخراجات اور انتظامیہ کی نگرانی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اپنی قانون سازی کی تجاویز منظور کرانا مشکل ہوسکتا ہے۔ ری پبلکنز کو ایوان میں ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل کیے بغیر اہم بل منظور کرانے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت ملنے کی صورت میں وہ کانگریسی کمیٹیوں کی سربراہی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں، حکومتی اخراجات، وفاقی اداروں اور مختلف پالیسیوں کی تحقیقات اور نگرانی کے زیادہ مواقع ملیں گے۔ وہ انتظا میہ کے عہدیداروں کو کانگریس میں طلب کرکے ان سے وضاحت بھی مانگ سکتے ہیں۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت بھی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔ امریکی سینیٹ میں وفاقی ججوں، اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سفیروں کی تقرریوں کی منظوری کا اختیار موجود ہے۔ اس لیے سینیٹ میں اکثریت تبدیل ہونے سے صدر کی جانب سے کی جانے والی اہم تقرریوں کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔
تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ صدر ٹرمپ فوری طور پر اپنے عہدے سے محروم ہوجائیں گے یا ان کے صدارتی اختیارات ختم ہوجائیں گے،امریکی آئین کے تحت صدر اپنی چار سالہ مدت پوری کرتے ہیں، البتہ کانگریس میں مخالف جماعت کی اکثریت ان کی پالیسیوں پر عمل درآمد کی رفتار اور سیاسی گنجائش محدود کرسکتی ہے۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا سیاسی اور آئینی راستہ بھی ان کے لیے دستیاب ہوگا,امریکی آئین کے تحت ایوانِ نمائندگان صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے اور اس کی منظوری دینے کا اختیار رکھتا ہے، جبکہ سینیٹ میں مقدمے کی سماعت ہوتی ہے۔ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
اس لیے اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو مواخذے کی کارروائی سیاسی طور پر ممکن ہوسکتی ہے، لیکن صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں بھی مطلوبہ حمایت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ محض ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنا صدر کی برطرفی کے لیے کافی نہیں۔




